خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہوں گئیں خون ٹھنڈا پڑ گیا تو آنکھیں پرانی ہوں گئیں ج سے کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو ا سے کی تصویریں بھی اوراق خزانی ہوں گئیں دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کر جن کو لکھنا تھا حقیقت سب باتیں زبانی ہوں گئیں جو مقدر تھا اسے تو روکنا ب سے ہے وہ ہے وہ لگ تھا ان کا کیا کرتے جو باتیں ناگہانی ہوں گئیں رہ گیا تو مشتاق دل ہے وہ ہے وہ رنگ یاد رفتگاں پھول مہنگے ہوں گئے قبرےں پرانی ہوں گئیں
Related Ghazal
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
Bashir Badr
38 likes
ذہن پر زور دینے سے بھی یاد نہیں آتا کہ ہم کیا دیکھتے تھے صرف اتنا پتا ہے کہ ہم آم لوگوں سے بلکل جدا دیکھتے تھے تب ہمیں اپنے پرکھوں سے ورثے ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی بد دعا یاد آئی جب کبھی اپنی آنکھوں کے آگے تجھے شہر جاتا ہوا دیکھتے تھے سچ بتائیں تو تیری محبت نے خود پر برق دلائی ہماری تو ہمیں چومتا تھا تو گھر جا کے ہم دیر تک آئینہ دیکھتے تھے سارا دن ریت کے گھر بناتے ہوئے اور گرتے ہوئے بیت جاتا شام ہوتے ہی ہم دوربینوں ہے وہ ہے وہ اپنی چھتوں سے خدا دیکھتے تھے اس کا کا لڑائی ہے وہ ہے وہ دونوں طرف کچھ سپاہی تھے جو نیند ہے وہ ہے وہ بولتے تھے جنگ ٹلتی نہیں تھی سروں سے مگر خواب ہے وہ ہے وہ فاختہ دیکھتے تھے دوست کس کو پتا ہے کہ وقت اس کا کی آنکھوں سے پھروں کس طرح پیش آیا ہم اکٹھے تھے ہنستے تھے روتے تھے اک دوسرے کو بڑا دکھتے تھے
Tehzeeb Hafi
55 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
ہوں گیا تو آپ کا آ گمن نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو کر گزری مجھ کو جو پون نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو پھولوں کی ورشا ہے وہ ہے وہ نہلا گیا تو مسکراتا ہوا اک کانسا نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ادھار ہوگا مری دیش کا لوگ کرتے ہے چنتن منن نیند ہے وہ ہے وہ
Azhar Iqbal
28 likes
More from Ahmad Mushtaq
हाथ से नापता हूँ दर्द की गहराई को ये नया खेल मिला है मेरी तन्हाई को था जो सीने में चराग़-ए-दिल-पुर-ख़ूँ न रहा चाटिए बैठ के अब सब्र-ओ-शकेबाई को दिल-ए-अफ़सुर्दा किसी तरह बहलता ही नहीं क्या करें आप की इस हौसला-अफ़ज़ाई को ख़ैर बदनाम तो पहले भी बहुत थे लेकिन तुझ से मिलना था कि पर लग गए रुस्वाई को निगह-ए-नाज़ न मिलते हुए घबरा हम से हम मोहब्बत नहीं कहने के शनासाई को दिल है नैरंगी-ए-अय्याम पे हैराँ अब तक इतनी सी बात भी मालूम नहीं भाई को
Ahmad Mushtaq
0 likes
خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Ahmad Mushtaq
0 likes
کھڑے ہیں دل ہے وہ ہے وہ جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بے حد ادا سے ہوں جاناں اور ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر تراش سے کمر تراش لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے ک ہاں ک ہاں لگ گئے عالم خیال ہے وہ ہے وہ ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے حقیقت شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی صدا نال دود و شرر لگائے ہوئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
ک سے جھٹپٹے کے رنگ اجالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے ٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے افسردگی کی لے بھی تری قہق ہوں ہے وہ ہے وہ تھی پت جھڑ کے سر بہار کے جھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے اڑ کر ک ہاں ک ہاں سے پرندوں کے بندھو نادیدہ پانیوں کے خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے حسن تمام تھے تو کوئی دیکھتا لگ تھا جاناں درد بن کے دیکھنے والوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کانٹے سمجھ کے گھا سے پہ چلتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ قطرے تمام او سے کے چھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کچھ رت جگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی کچھ خواب تھے جو مری خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب
Ahmad Mushtaq
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







