ghazalKuch Alfaaz

شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا ہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا ا سے اونچ نیچ پر تو ٹھہرتے نہیں تھے پاؤں ک سے دست شوق نے اسے دنیا بنا دیا کن مٹھیوں نے بیج ناری زمین پر کن بارشوں نے ا سے کو تماشا بنا دیا سیراب کر دیا تری موج خرام نے رکھا ج ہاں قدم و ہاں دریا بنا دیا اک رات چاندنی مری بستر پہ آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبائیں کر ترا چہرہ بنا دیا پوچھے ا گر کوئی تو اسے کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کیا تھا تری غم نے اسے کیا بنا دیا

Related Ghazal

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے

Abrar Kashif

54 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

More from Ahmad Mushtaq

हाथ से नापता हूँ दर्द की गहराई को ये नया खेल मिला है मेरी तन्हाई को था जो सीने में चराग़-ए-दिल-पुर-ख़ूँ न रहा चाटिए बैठ के अब सब्र-ओ-शकेबाई को दिल-ए-अफ़सुर्दा किसी तरह बहलता ही नहीं क्या करें आप की इस हौसला-अफ़ज़ाई को ख़ैर बदनाम तो पहले भी बहुत थे लेकिन तुझ से मिलना था कि पर लग गए रुस्वाई को निगह-ए-नाज़ न मिलते हुए घबरा हम से हम मोहब्बत नहीं कहने के शनासाई को दिल है नैरंगी-ए-अय्याम पे हैराँ अब तक इतनी सी बात भी मालूम नहीं भाई को

Ahmad Mushtaq

0 likes

یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب

Ahmad Mushtaq

1 likes

اب لگ بہل سکےگا دل اب لگ دیے جلائیے عشق و ہوں سے ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے ا سے نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ چھوڑیے اب ا نہیں بھول جائیے کیسے نفی سے تھے مکان صاف تھا کتنا آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ حقیقت سماں آج ک ہاں سے لائیے کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کا سنگ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے کوئی شرر نہیں بچا پچھلے بر سے کی راکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نفساں شعلہ خو آگ نئی جلائیے

Ahmad Mushtaq

0 likes

چاند ا سے گھر کے دریچوں کے برابر آیا دل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں تری یاد کا بادل مری سر پر آیا بجھ گئی رونق پروا لگ تو محفل چمکی سو گئے اہل تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی خموشی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

Ahmad Mushtaq

0 likes

کھڑے ہیں دل ہے وہ ہے وہ جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بے حد ادا سے ہوں جاناں اور ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر تراش سے کمر تراش لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے ک ہاں ک ہاں لگ گئے عالم خیال ہے وہ ہے وہ ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے حقیقت شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی صدا نال دود و شرر لگائے ہوئے

Ahmad Mushtaq

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.