ghazalKuch Alfaaz

آج یوں موج در موج غم تھم گیا تو ا سے طرح غم زدوں کو قرار آ گیا تو چنو خوش بو زلف بہار آ گئی چنو پیغام دیدار یار آ گیا تو ج سے کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رو برو پھروں سر رہ گزاری آ گیا تو صبح فردا کو پھروں دل ترسنے لگا عمر رفتہ ترا اعتبار آ گیا تو رت بدلنے لگی رنگ دل دیکھنا رنگ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں زخم چھلکا کوئی یا کوئی گل کھلا خوشی امڈے کہ ابر بہار آ گیا تو خوں عشاق سے جام بھرنے لگے دل سلگنے لگے داغ جلنے لگے محفل درد پھروں رنگ پر آ گئی پھروں شب آرزو پر نکھار آ گیا تو سرفروشی کے انداز بدلے گئے دعوت قتل پر مقتل شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈال کر کوئی گردن ہے وہ ہے وہ طوق آ گیا تو لاد کر کوئی کندھے پہ دار آ گیا تو فیض کیا جانیے یار ک سے آ سے پر منتظر ہیں کہ لائےگا کوئی خبر مے کشوں پر ہوا محاسب مہرباں دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آ گیا تو

Related Ghazal

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

تری امید ترا انتظار جب سے ہے لگ شب کو دن سے شکایت لگ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہوں کرتے ہیں تری نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے تری سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل نا صبور بے قابو چھوؤں گا تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے ا گر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے طرح طرح کی طلب تری رنگ لب سے ہے ک ہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے ستارہ سحری ہم کلام کب سے ہے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی رنگیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ حساب آرز کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل ہے وہ ہے وہ کیا لگ کسی عدو کی عداوتیں لگ کسی صنم کی مروتیں چلو آؤ جاناں کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں مری جان آج کا غم لگ کر کہ لگ جانے کاتب سمے نے کسی اپنے کل ہے وہ ہے وہ بھی بھول کر کہی لکھ رکھی ہوں مسرتیں

Faiz Ahmad Faiz

4 likes

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی شمع غم جھلملا تی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھروں صبا سایہ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو لگ آیا اسے کوئی زنجیر در ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر ایک امید سے دل بہلتا رہا اک تمنا ستاتی رہی رات بھر

Faiz Ahmad Faiz

4 likes

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام تہذیب ہے تمہارے بام پر آنے کا نام دوستو اس کا چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر گلستاں کی بات درماندہ ہے نہ مے خانے کا نام پھروں نظر ہے وہ ہے وہ پھول مہکے دل ہے وہ ہے وہ پھروں شمعیں جلیں پھروں تصور نے لیا اس کا بزم ہے وہ ہے وہ جانے کا نام دل بری ٹھہرا زبان خلق کھلواتے کا نام اب نہیں لیتے پری رو زلف بکھرانے کا نام اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرار محبوبی نہیں ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام محاسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے رند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن جاناں کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام فیض ان کو ہے تقاضا وفا ہم سے جنہیں آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانہ کا نام

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.