آخر تو ڈوبنا ہی تھا کاغذ کی ناو کو الزام دیتے رہیے ن گرا کے بہاؤ کو دل کے دھوئیں کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنے نہیں دیا آساں نہیں تھا افراتفری ا سے سلگتے کو بن آئی جاں پہ جب پڑا سامان باندھنا منزل سمجھ کے بیٹھ گئے تھے پڑاو کو
Related Ghazal
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو گھر کے اندر تو جھوٹوں کی ایک جوان فصلیں ہے دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے گلدستے کے اندر کیا ہے سچ بولو گنگا میا ڈوبنے والے اپنے تھے ناو ہے وہ ہے وہ ک سے نے چھید کیا ہے سچ بولو
Rahat Indori
71 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Rajesh Reddy
کسی دن زندگانی ہے وہ ہے وہ کرشمہ کیوں نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا مری اک زندگی کے کتنے حصے دار ہیں لیکن کسی کی زندگی ہے وہ ہے وہ میرا حصہ کیوں نہیں ہوتا ج ہاں ہے وہ ہے وہ یوں تو ہونے کو بے حد کچھ ہوتا رہتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیسا سوچتا ہوں کچھ بھی ویسا کیوں نہیں ہوتا ہمیشہ طنز کرتے ہیں طبیعت پوچھنے والے جاناں اچھا کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ اچھا کیوں نہیں ہوتا زمانے بھر کے لوگوں کو کیا ہے مبتلا تو نے جو تیرا ہوں گیا تو تو بھی اسی کا کیوں نہیں ہوتا
Rajesh Reddy
15 likes
جانے کتنی اڑان باقی ہے ا سے پرندے ہے وہ ہے وہ جان باقی ہے جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو ب سے آسمان باقی ہے اب حقیقت دنیا عجیب لگتی ہے ج سے ہے وہ ہے وہ امن و امان باقی ہے امتحاں سے گزر کے کیا دیکھا اک نیا امتحاں باقی ہے سر ہوں گے کل ی ہاں ان کے جن کے منا ہے وہ ہے وہ زبان باقی ہے
Rajesh Reddy
6 likes
ی ہاں ہر بے وجہ ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مری دل کے کسی کونے ہے وہ ہے وہ اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے لگ ب سے ہے وہ ہے وہ زندگی ا سے کے لگ آب موت پر ا سے کا م گر انسان پھروں بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے غضب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساں رہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے
Rajesh Reddy
28 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rajesh Reddy.
Similar Moods
More moods that pair well with Rajesh Reddy's ghazal.







