ghazalKuch Alfaaz

ی ہاں ہر بے وجہ ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مری دل کے کسی کونے ہے وہ ہے وہ اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے لگ ب سے ہے وہ ہے وہ زندگی ا سے کے لگ آب موت پر ا سے کا م گر انسان پھروں بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے غضب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساں رہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے

Rajesh Reddy28 Likes

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے

Ahmad Abdullah

50 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

More from Rajesh Reddy

آخر تو ڈوبنا ہی تھا کاغذ کی ناو کو الزام دیتے رہیے ن گرا کے بہاؤ کو دل کے دھوئیں کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنے نہیں دیا آساں نہیں تھا افراتفری ا سے سلگتے کو بن آئی جاں پہ جب پڑا سامان باندھنا منزل سمجھ کے بیٹھ گئے تھے پڑاو کو

Rajesh Reddy

12 likes

جانے کتنی اڑان باقی ہے ا سے پرندے ہے وہ ہے وہ جان باقی ہے جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو ب سے آسمان باقی ہے اب حقیقت دنیا عجیب لگتی ہے ج سے ہے وہ ہے وہ امن و امان باقی ہے امتحاں سے گزر کے کیا دیکھا اک نیا امتحاں باقی ہے سر ہوں گے کل ی ہاں ان کے جن کے منا ہے وہ ہے وہ زبان باقی ہے

Rajesh Reddy

6 likes

کسی دن زندگانی ہے وہ ہے وہ کرشمہ کیوں نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا مری اک زندگی کے کتنے حصے دار ہیں لیکن کسی کی زندگی ہے وہ ہے وہ میرا حصہ کیوں نہیں ہوتا ج ہاں ہے وہ ہے وہ یوں تو ہونے کو بے حد کچھ ہوتا رہتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیسا سوچتا ہوں کچھ بھی ویسا کیوں نہیں ہوتا ہمیشہ طنز کرتے ہیں طبیعت پوچھنے والے جاناں اچھا کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ اچھا کیوں نہیں ہوتا زمانے بھر کے لوگوں کو کیا ہے مبتلا تو نے جو تیرا ہوں گیا تو تو بھی اسی کا کیوں نہیں ہوتا

Rajesh Reddy

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rajesh Reddy.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rajesh Reddy's ghazal.