ghazalKuch Alfaaz

کسی دن زندگانی ہے وہ ہے وہ کرشمہ کیوں نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا مری اک زندگی کے کتنے حصے دار ہیں لیکن کسی کی زندگی ہے وہ ہے وہ میرا حصہ کیوں نہیں ہوتا ج ہاں ہے وہ ہے وہ یوں تو ہونے کو بے حد کچھ ہوتا رہتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیسا سوچتا ہوں کچھ بھی ویسا کیوں نہیں ہوتا ہمیشہ طنز کرتے ہیں طبیعت پوچھنے والے جاناں اچھا کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ اچھا کیوں نہیں ہوتا زمانے بھر کے لوگوں کو کیا ہے مبتلا تو نے جو تیرا ہوں گیا تو تو بھی اسی کا کیوں نہیں ہوتا

Rajesh Reddy15 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Rajesh Reddy

آخر تو ڈوبنا ہی تھا کاغذ کی ناو کو الزام دیتے رہیے ن گرا کے بہاؤ کو دل کے دھوئیں کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنے نہیں دیا آساں نہیں تھا افراتفری ا سے سلگتے کو بن آئی جاں پہ جب پڑا سامان باندھنا منزل سمجھ کے بیٹھ گئے تھے پڑاو کو

Rajesh Reddy

12 likes

جانے کتنی اڑان باقی ہے ا سے پرندے ہے وہ ہے وہ جان باقی ہے جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو ب سے آسمان باقی ہے اب حقیقت دنیا عجیب لگتی ہے ج سے ہے وہ ہے وہ امن و امان باقی ہے امتحاں سے گزر کے کیا دیکھا اک نیا امتحاں باقی ہے سر ہوں گے کل ی ہاں ان کے جن کے منا ہے وہ ہے وہ زبان باقی ہے

Rajesh Reddy

6 likes

ی ہاں ہر بے وجہ ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مری دل کے کسی کونے ہے وہ ہے وہ اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے لگ ب سے ہے وہ ہے وہ زندگی ا سے کے لگ آب موت پر ا سے کا م گر انسان پھروں بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے غضب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساں رہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے

Rajesh Reddy

28 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rajesh Reddy.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rajesh Reddy's ghazal.