ghazalKuch Alfaaz

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

More from Mohsin Naqvi

اب حقیقت طوفاں ہے لگ حقیقت شور ہواؤں جیسا دل کا عالم ہے تری بعد خلاوں جیسا کاش دنیا مری احسا سے کو واپ سے کر دے خموشی کا وہی انداز صداؤں جیسا پا سے رہ کر بھی ہمیشہ حقیقت بے حد دور ملا ا سے کا انداز ت غافل تھا خداؤں جیسا کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احسا سے مآل پھول کھیل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا کیا خوشگوار ہے کہ دنیا اسے سردار کہے ج سے کا انداز سخن بھی ہوں گداؤں جیسا پھروں تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھروں مری دل ہے وہ ہے وہ اٹھا شور ہواؤں جیسا بارہا خواب ہے وہ ہے وہ پا کر مجھے پیاسا محسن ا سے کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

Mohsin Naqvi

1 likes

जब से उस ने शहर को छोड़ा हर रस्ता सुनसान हुआ अपना क्या है सारे शहर का इक जैसा नुक़सान हुआ ये दिल ये आसेब की नगरी मस्कन सोचूँ वहमों का सोच रहा हूँ इस नगरी में तू कब से मेहमान हुआ सहरा की मुँह-ज़ोर हवाएँ औरों से मंसूब हुईं मुफ़्त में हम आवारा ठहरे मुफ़्त में घर वीरान हुआ मेरे हाल पे हैरत कैसी दर्द के तन्हा मौसम में पत्थर भी रो पड़ते हैं इंसान तो फिर इंसान हुआ इतनी देर में उजड़े दिल पर कितने महशर बीत गए जितनी देर में तुझ को पा कर खोने का इम्कान हुआ कल तक जिस के गिर्द था रक़्साँ इक अम्बोह सितारों का आज उसी को तन्हा पा कर मैं तो बहुत हैरान हुआ उस के ज़ख़्म छुपा कर रखिए ख़ुद उस शख़्स की नज़रों से उस से कैसा शिकवा कीजे वो तो अभी नादान हुआ जिन अश्कों की फीकी लौ को हम बे-कार समझते थे उन अश्कों से कितना रौशन इक तारीक मकान हुआ यूँँ भी कम-आमेज़ था 'मोहसिन' वो इस शहर के लोगों में लेकिन मेरे सामने आ कर और भी कुछ अंजान हुआ

Mohsin Naqvi

0 likes

عذاب دید ہے وہ ہے وہ آنکھیں لہو لہو کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے کھنڈر کی تہ سے بریدا بدن سروں کے سوا ملا لگ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے سنا ہے شہر ہے وہ ہے وہ اڑھائی دلوں کا میلا ہے چلیں گے ہم بھی م گر پیرہن رفو کر کے مسافت شب ہجراں کے بعد بھیڈ کھلا ہوا دکھی ہے چراغوں کی رکھ کر کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی پیا سے اسی کے لہو کو چاٹ گئی حقیقت خوش ہوا تھا سمندر کو آبجو کر کے یہ ک سے نے ہم سے لہو کا خراج قیصری پھروں مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے جلو سے اہل وفا ک سے کے در پہ پہنچا ہے نشان طوق وفا زینت گلو کر کے اجاڑ رت کو اولیں بنائے رکھتی ہے ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے کوئی تو حب سے ہوا سے یہ پوچھتا محسن ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

Mohsin Naqvi

1 likes

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن ہے وہ ہے وہ پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں کیوں تری درد کو دیں تہمت ویرانی دل زلزلوں ہے وہ ہے وہ تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں موسم زرد ہے وہ ہے وہ اک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت ہے وہ ہے وہ تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں اب کوئی کیا مری قدموں کے نشان ڈھونڈے گا تیز آندھی ہے وہ ہے وہ تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہوں کہ یہ لوگ پتھروں ہے وہ ہے وہ بھی کبھی آئینے جڑ جاتی ہیں سوچ کا آئی لگ دھندلا ہوں تو پھروں سمے کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں شدت غم ہے وہ ہے وہ بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں حقیقت بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں

Mohsin Naqvi

2 likes

नया है शहर नए आसरे तलाश करूँँ तू खो गया है कहाँ अब तुझे तलाश करूँँ जो दश्त में भी जलाते थे फ़स्ल-ए-गुल के चराग़ मैं शहर में भी वही आबले तलाश करूँँ तू अक्स है तो कभी मेरी चश्म-ए-तर में उतर तिरे लिए मैं कहाँ आइने तलाश करूँँ तुझे हवा से की आवारगी का इल्म कहाँ कभी मैं तुझ को तिरे सामने तलाश करूँँ ग़ज़ल कहूँ कभी सादास ख़त लिखूँ उस को उदास दिल के लिए मश्ग़ले तलाश करूँँ मिरे वजूद से शायद मिले सुराग़ तिरा कभी मैं ख़ुद को तिरे वास्ते तलाश करूँँ मैं चुप रहूँ कभी बे-वज्ह हँस पड़ूँ 'मोहसिन' उसे गँवा के अजब हौसले तलाश करूँँ

Mohsin Naqvi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mohsin Naqvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mohsin Naqvi's ghazal.