ghazalKuch Alfaaz

اب آنکھوں میں خوں دم ب دم دیکھتے ہیں نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں گہے داغ رہتا ہے دل گا جگر خوں ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو گہے کاغذ و گہ منسوب دیکھتے ہیں وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں کہاں تک بھلا رووگے میر صاحب اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں

Related Ghazal

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

More from Meer Taqi Meer

یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا حقیقت ک ہوں کہ کیا ہے عشقحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشقدل لگا ہوں تو جی ج ہاں سے اٹھا موت کا نام پیار کا ہے عشقاور تلخی تقریر کو نہیں کچھ دخل عشق کے درد کی دوا ہے عشقکیا ڈوبایا محیط ہے وہ ہے وہ غم کے ہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق عشق سے جا نہیں کوئی خالی دل سے لے عرش تک بھرا ہے عشقکوہکن کیا پہاڑ کاٹےگا پردے ہے وہ ہے وہ زور آزما ہے عشق عشق ہے عشق کرنے والوں کو کیسا کیسا بہم کیا ہے عشقکون مقصد کو عشق بن پہنچا آرزو عشق مدعا ہے عشقمیر مرنا پڑے ہے خوباں پر عشق مت کر کہ بد بلا ہے عشق

Meer Taqi Meer

4 likes

शिकवा करूँँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुब्ह होते जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का कम-फ़ुर्सती जहाँ के मज में' की कुछ न पूछो अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का या रोए या रुलाया अपनी तो यूँँ ही गुज़री क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का

Meer Taqi Meer

0 likes

خط لکھ کے کوئی سادہ لگ ا سے کو ملول ہوں ہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہوں چا ہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیں کیسے ہی بھاری ہوں مری آگے تو پھول ہوں سرمہ جو نور بخشی ہے آنکھوں کو خلق کی شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہوں جاویں نثار ہونے کو ہم ک سے بسات پر اک نیم جاں رکھیں ہیں سو حقیقت جب قبول ہوں ہم ان دنوں ہے وہ ہے وہ لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام ور لگ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہوں دل لے کے افلاطون دہلی کے کب کا پچا گئے اب ان سے کھائی پی ہوئی اجازت کیا وصول ہوں ناکام ا سے لیے ہوں کہ چاہو ہوں سب کچھ آج جاناں بھی تو میر صاحب و قبلہ اجول ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

گلہ نہیں ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جاں گدازی کا ج گر پہ زخم ہے ا سے کی زبان درازی کا سمند ناز نے ا سے کے ج ہاں کیا پامال وہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا ستم ہیں قہر ہیں افلاطون شراب خانے کے اتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کم ا گر خیال تمہیں ہووے نیزہ بازی کا بتاؤ ہم سے کوئی آن جاناں سے کیا بگڑی نہیں ہے جاناں کو سلیقہ زما لگ سازی کا خدا کو کام تو سون پہ ہیں ہے وہ ہے وہ نے سب لیکن رہے ہے خوف مجھے واں کی اژدہا کا چلو ہوں راہ موافق کہے مخالف کے طریق چھوڑ دیا جاناں نے دل نواز کا کسو کی بات نے آگے مری لگ پایا رنگ دلوں ہے وہ ہے وہ نقش ہے مری سخن ترازی کا بسان خاک ہوں پامال راہ خلق اے میر رکھے ہے دل ہے وہ ہے وہ ا گر قصد سرفرازی کا

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.