اب ب سے ا سے کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے چھہ دروازے چھوڑ چکا ہوں ایک دروازہ باقی ہے دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برسوں سے کھول رہا ہوں ایک عورت کی ساڑی کو آدھی دنیا گھوم چکا ہوں آدھی دنیا باقی ہے کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں پھروں کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے ا سے کی خاطر بازاروں ہے وہ ہے وہ بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گم ہونے والا ہوں ب سے ہاتھ چھڑانا باقی ہے
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی
Zubair Ali Tabish
58 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Zia Mazkoor
شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا
Zia Mazkoor
17 likes
فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے اب کے یہ لوگ تمہیں ایسی جگہ بھیجیں گے زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر آج کے بعد کوئی فلم نہیں سر و ساماں مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ دشمن کے قریں پہنچوں گا اور کبوتر مری تلوار پہ آ بیٹھیں گے ہم کو اک بار کناروں سے نکل جانے دو پھروں تو سیلاب کے پانی کی طرح پھیلیں گے تو حقیقت دریا ہے اگر جلدی نہیں کی تو نے خود سمندر تجھے ملنے کے لیے آئیں گے سیغا راز ہے وہ ہے وہ رکھیں گے نہیں عشق ترا ہم تری نام سے خوشبو کی دکان کھولیں گے
Zia Mazkoor
13 likes
ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے وگر لگ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے مری حساب سے مازوری حسن ہے میرا ا گر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے اک آدھے کام کے حق ہے وہ ہے وہ تو خیر ہے وہ ہے وہ بھی ہوں تمہارے پا سے تو دفترون سفارشات کا ہے ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے زبان پہ لانے ہے وہ ہے وہ نقصان کائنات کا ہے ہم ا سے کے ہونے نا ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے
Zia Mazkoor
8 likes
ہم تو آپ سے اچھی باتیں کرتے ہیں آپ ہی ہم سے ایسی باتیں کرتے ہیں ملنے پر چپ لگ جاتی ہے دونوں کو فون پر اچھی خاصی باتیں کرتے ہیں لوگ تو کرتے ہوں گے ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر جو شہر کے درزی باتیں کرتے ہیں بن دیکھے ایمان نہیں لا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور حقیقت غیر یقینی باتیں کرتے ہیں پیر کانسا تو چپ ہی رہتے ہیں مذکور دنیا دار ہی دینی باتیں کرتے ہیں
Zia Mazkoor
23 likes
زیادہ کچھ نہیں ہمت تو کر ہی سکتے ہیں اک اچھے کام کی نیت تو کر ہی سکتے ہیں خدا کے ہاتھ سے لکھا مقدر اپنی جگہ ہم ا سے کے بندے ہیں محنت تو کر ہی سکتے ہیں غریب لوگ مرمت لگ کر سکیں تو کیا شکستہ گھر کی حفاظت تو کر ہی سکتے ہیں ہمارے بچے اجازت طلب نہیں کرتے م گر بتانے کی زحمت تو کر ہی سکتے ہیں ہزاروں سال گزارے ہیں مقت گرا رہ کر اک آدھ بار طلسم یار تو کر ہی سکتے ہیں تو کیا ہوا جو شریک حیات بن لگ سکے تمہاری شا گرا ہے وہ ہے وہ شراکت تو کر ہی سکتے ہیں
Zia Mazkoor
25 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zia Mazkoor.
Similar Moods
More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.







