ghazalKuch Alfaaz

اب اختیار ہے وہ ہے وہ ہے لگ یہ روانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور مری طرح تو بھی ایک حقیقت ہے پھروں ا سے کے بعد جو اختیار ہے حقیقت کہانی ہے تری وجود ہے وہ ہے وہ کچھ ہے جو ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا نہیں تری خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے ذرا بھی دخل نہیں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہواؤں کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت اپنی خاک اڑانی ہے یہ خواب گاہ یہ آنکھیں یہ میرا مصلحتاً ہر ایک چیز مری ذات ہے وہ ہے وہ پرانی ہے حقیقت ایک دن جو تجھے اڑانی ہے وہ ہے وہ گزرا تھا تمام عمر اسی دن کی خواب گاہ ہے عشق قدیم ہے وہ ہے وہ سوچنے ہیں خوشبوئیں ج سے کی حقیقت ایک پھول کی لگتا ہے نواہ جاں ہے بھٹکتی تو کہی کچھ نہیں ہوا لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں یہ سانسوں کی خوشبوئیں ہے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Abhishek shukla

ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا قریب آئی تو سر و ساماں حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مری پھروں ا سے کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مری خیال کے وحشت کدے ہے وہ ہے وہ آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلا شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ آ کے ستاروں نے یہ کہا مجھ سے تری قریب سے گزرا ہے قافلہ شب کا سحر کا لم سے مری زندگی بڑھا دیتا م گر گراں تھا بے حد مجھ پہ کاٹنا شب کا کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہے کہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا چٹخ اٹھی ہے رگ جاں تو یہ خیال آیا کسی کی یاد سے جڑتا ہے سلسلہ شب کا

Abhishek shukla

1 likes

در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں پھروں ا سے کے بعد تجھے سوچیں یہ غضب بھی کریں حقیقت ج سے نے شام کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا ہے ہم ا سے چراغ ہوا ساز کا ادب بھی کریں سیاہیاں سی گزرا لگی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ا سے ستارہ شب تاب کی طلب بھی کریں یہ امتیاز ضروری ہے اب عبادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی دعا جو نظر کر رہی ہے لب بھی کریں کہ چنو خواب دکھانا تسلیاں دینا کچھ ایک کام محبت ہے وہ ہے وہ بے سبب بھی کریں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ تعبیر ہی نہیں ممکن حقیقت مری خواب کی تشریح چاہے جب بھی کریں شکست خواب کی منزل بھی کب نئی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی جو کرتے چلے آئیں ہیں سو اب بھی کریں

Abhishek shukla

0 likes

لہر کا خواب ہوں کے دیکھتے ہیں چل تہ اب ہوں کے دیکھتے ہیں ا سے پہ اتنا یقین ہے ہم کو ا سے کو بیتاب ہوں کے دیکھتے ہیں رات کو رات ہوں کے جانا تھا خواب کو خواب ہوں کے دیکھتے ہیں اپنی ارزانیوں کے صدقے ہم خود کو نایاب ہوں کے دیکھتے ہیں ساحلوں کی نظر ہے وہ ہے وہ آنا ہے پھروں تو غرقاب ہوں کے دیکھتے ہیں حقیقت جو پایاب کہ رہا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو سیلاب ہوں کے دیکھتے ہیں

Abhishek shukla

1 likes

تجھ سے وابستہ کوئی غم نہیں رکھنے والے ج سے کو رکھنا ہوں رکھے ہم نہیں رکھنے والے اپنے الجھ ہوئے بالوں کی قسم ہم ا سے بار تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ کوئی خم نہیں رکھنے والے ایک حوا کی محبت کے سوا سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کچھ حضرت عدم نہیں رکھنے والے

Abhishek shukla

2 likes

آبرو شب تیرا نہیں رکھنے والے ہم کہی پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے آئی لگ رکھنے کا الزام بھی آیا ہم پر جب کہ ہم لوگ تو چہرہ نہیں رکھنے والے ہم پہ فرہاد کا کچھ قرض نکلتا ہے سو ہم جاناں کہو بھی تو یہ تیشہ نہیں رکھنے والے ہم کو معلوم ہیں از رو محبت سو ہم کوئی بھی درد زیادہ نہیں رکھنے والے

Abhishek shukla

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Abhishek shukla.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Abhishek shukla's ghazal.