ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا قریب آئی تو سر و ساماں حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مری پھروں ا سے کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مری خیال کے وحشت کدے ہے وہ ہے وہ آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلا شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ آ کے ستاروں نے یہ کہا مجھ سے تری قریب سے گزرا ہے قافلہ شب کا سحر کا لم سے مری زندگی بڑھا دیتا م گر گراں تھا بے حد مجھ پہ کاٹنا شب کا کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہے کہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا چٹخ اٹھی ہے رگ جاں تو یہ خیال آیا کسی کی یاد سے جڑتا ہے سلسلہ شب کا
Related Ghazal
تمہارا ہجر منا لوں ا گر اجازت ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی سے لگا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیمان ب سے اپنا سمے گنوا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے ہجر کی شب ہاں یہ کار ہے وہ ہے وہ جاناں کوئی چراغ جلا لوں ا گر اجازت ہوں جنوں وہی ہے وہی ہے م گر ہے شہر نیا ی ہاں بھی شور مچا لوں ا گر اجازت ہوں کسے ہے خواہش مرہم گری م گر پھروں بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے زخم دکھا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے یاد ہے وہ ہے وہ جینے کی آرزو ہے ابھی کچھ اپنا حال بے زار ا گر اجازت ہوں
Jaun Elia
45 likes
گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے
Tehzeeb Hafi
124 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
شاہسازی ہے وہ ہے وہ رعایت بھی نہیں کرتے ہوں سامنے آکے حکومت بھی نہیں کرتے ہوں جاناں سے کیا بات کرے کون ک ہاں قتل ہوا جاناں تو ا سے ظلم پہ حیرت بھی نہیں کرتے ہوں اب مری حال پہ کیوں جاناں کو پریشانی ہے اب تو جاناں مجھ سے محبت بھی نہیں کرتے ہوں پیار کرنے کی سند کیسے تمہیں جاری کروں جاناں ابھی ٹھیک سے خوبصورت بھی نہیں کرتے ہوں مشورے ہن سے کے دیا کرتے تھے دیوانوں کو کیا ہوا اب تو نصیحت بھی نہیں کرتے ہوں
Ali Zaryoun
39 likes
More from Abhishek shukla
در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں پھروں ا سے کے بعد تجھے سوچیں یہ غضب بھی کریں حقیقت ج سے نے شام کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا ہے ہم ا سے چراغ ہوا ساز کا ادب بھی کریں سیاہیاں سی گزرا لگی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ا سے ستارہ شب تاب کی طلب بھی کریں یہ امتیاز ضروری ہے اب عبادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی دعا جو نظر کر رہی ہے لب بھی کریں کہ چنو خواب دکھانا تسلیاں دینا کچھ ایک کام محبت ہے وہ ہے وہ بے سبب بھی کریں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ تعبیر ہی نہیں ممکن حقیقت مری خواب کی تشریح چاہے جب بھی کریں شکست خواب کی منزل بھی کب نئی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی جو کرتے چلے آئیں ہیں سو اب بھی کریں
Abhishek shukla
0 likes
اب اختیار ہے وہ ہے وہ ہے لگ یہ روانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور مری طرح تو بھی ایک حقیقت ہے پھروں ا سے کے بعد جو اختیار ہے حقیقت کہانی ہے تری وجود ہے وہ ہے وہ کچھ ہے جو ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا نہیں تری خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے ذرا بھی دخل نہیں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہواؤں کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت اپنی خاک اڑانی ہے یہ خواب گاہ یہ آنکھیں یہ میرا مصلحتاً ہر ایک چیز مری ذات ہے وہ ہے وہ پرانی ہے حقیقت ایک دن جو تجھے اڑانی ہے وہ ہے وہ گزرا تھا تمام عمر اسی دن کی خواب گاہ ہے عشق قدیم ہے وہ ہے وہ سوچنے ہیں خوشبوئیں ج سے کی حقیقت ایک پھول کی لگتا ہے نواہ جاں ہے بھٹکتی تو کہی کچھ نہیں ہوا لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں یہ سانسوں کی خوشبوئیں ہے
Abhishek shukla
1 likes
آبرو شب تیرا نہیں رکھنے والے ہم کہی پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے آئی لگ رکھنے کا الزام بھی آیا ہم پر جب کہ ہم لوگ تو چہرہ نہیں رکھنے والے ہم پہ فرہاد کا کچھ قرض نکلتا ہے سو ہم جاناں کہو بھی تو یہ تیشہ نہیں رکھنے والے ہم کو معلوم ہیں از رو محبت سو ہم کوئی بھی درد زیادہ نہیں رکھنے والے
Abhishek shukla
2 likes
تجھ سے وابستہ کوئی غم نہیں رکھنے والے ج سے کو رکھنا ہوں رکھے ہم نہیں رکھنے والے اپنے الجھ ہوئے بالوں کی قسم ہم ا سے بار تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ کوئی خم نہیں رکھنے والے ایک حوا کی محبت کے سوا سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کچھ حضرت عدم نہیں رکھنے والے
Abhishek shukla
2 likes
لہر کا خواب ہوں کے دیکھتے ہیں چل تہ اب ہوں کے دیکھتے ہیں ا سے پہ اتنا یقین ہے ہم کو ا سے کو بیتاب ہوں کے دیکھتے ہیں رات کو رات ہوں کے جانا تھا خواب کو خواب ہوں کے دیکھتے ہیں اپنی ارزانیوں کے صدقے ہم خود کو نایاب ہوں کے دیکھتے ہیں ساحلوں کی نظر ہے وہ ہے وہ آنا ہے پھروں تو غرقاب ہوں کے دیکھتے ہیں حقیقت جو پایاب کہ رہا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو سیلاب ہوں کے دیکھتے ہیں
Abhishek shukla
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abhishek shukla.
Similar Moods
More moods that pair well with Abhishek shukla's ghazal.







