تجھ سے وابستہ کوئی غم نہیں رکھنے والے ج سے کو رکھنا ہوں رکھے ہم نہیں رکھنے والے اپنے الجھ ہوئے بالوں کی قسم ہم ا سے بار تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ کوئی خم نہیں رکھنے والے ایک حوا کی محبت کے سوا سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کچھ حضرت عدم نہیں رکھنے والے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Abhishek shukla
اب اختیار ہے وہ ہے وہ ہے لگ یہ روانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور مری طرح تو بھی ایک حقیقت ہے پھروں ا سے کے بعد جو اختیار ہے حقیقت کہانی ہے تری وجود ہے وہ ہے وہ کچھ ہے جو ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا نہیں تری خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے ذرا بھی دخل نہیں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہواؤں کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت اپنی خاک اڑانی ہے یہ خواب گاہ یہ آنکھیں یہ میرا مصلحتاً ہر ایک چیز مری ذات ہے وہ ہے وہ پرانی ہے حقیقت ایک دن جو تجھے اڑانی ہے وہ ہے وہ گزرا تھا تمام عمر اسی دن کی خواب گاہ ہے عشق قدیم ہے وہ ہے وہ سوچنے ہیں خوشبوئیں ج سے کی حقیقت ایک پھول کی لگتا ہے نواہ جاں ہے بھٹکتی تو کہی کچھ نہیں ہوا لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں یہ سانسوں کی خوشبوئیں ہے
Abhishek shukla
1 likes
ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا قریب آئی تو سر و ساماں حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مری پھروں ا سے کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مری خیال کے وحشت کدے ہے وہ ہے وہ آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلا شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ آ کے ستاروں نے یہ کہا مجھ سے تری قریب سے گزرا ہے قافلہ شب کا سحر کا لم سے مری زندگی بڑھا دیتا م گر گراں تھا بے حد مجھ پہ کاٹنا شب کا کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہے کہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا چٹخ اٹھی ہے رگ جاں تو یہ خیال آیا کسی کی یاد سے جڑتا ہے سلسلہ شب کا
Abhishek shukla
1 likes
خلا کے جیسا کوئی درمیان بھی پڑتا پھروں ا سے سفر ہے وہ ہے وہ کہی آسمان بھی پڑتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوٹ کر تو رہا ہوں ہوا کے ماتھے پر مزہ تو جب تھا کہ کوئی نشان بھی پڑتا عجیب خواہشیں اٹھتی ہیں ا سے خرابے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزر رہے ہیں تو اپنا مکان بھی پڑتا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جہان کے پیچھے پڑے رہیں کب تک ہمارے پیچھے کبھی یہ جہان بھی پڑتا یہ اک کمی کہ جو اب زندگی سی لگتی ہے ہماری دھوپ ہے وہ ہے وہ حقیقت سایبان بھی پڑتا ہر ایک روز اسی زندگی کی تیاری سو چاہتے ہیں کبھی امتحاں بھی پڑتا
Abhishek shukla
2 likes
ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جگا لاتے کچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کا ہم لو لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے پتا جو ہوتا کہ نکلےگا چاند جیسا کچھ ہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پر ہم ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی ہتھیلی پہ رنگ کیا لاتے ب سے اور کچھ بھی نہیں چاہتا تھا ہے وہ ہے وہ جاناں سے ذرا سی چیز تھی دنیا کہی چھپا لاتے ہمارے عزم کی شدت ا گر سمجھنی تھی تو ا سے سفر ہے وہ ہے وہ کوئی سخت مرحلہ لاتے
Abhishek shukla
0 likes
لہر کا خواب ہوں کے دیکھتے ہیں چل تہ اب ہوں کے دیکھتے ہیں ا سے پہ اتنا یقین ہے ہم کو ا سے کو بیتاب ہوں کے دیکھتے ہیں رات کو رات ہوں کے جانا تھا خواب کو خواب ہوں کے دیکھتے ہیں اپنی ارزانیوں کے صدقے ہم خود کو نایاب ہوں کے دیکھتے ہیں ساحلوں کی نظر ہے وہ ہے وہ آنا ہے پھروں تو غرقاب ہوں کے دیکھتے ہیں حقیقت جو پایاب کہ رہا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو سیلاب ہوں کے دیکھتے ہیں
Abhishek shukla
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abhishek shukla.
Similar Moods
More moods that pair well with Abhishek shukla's ghazal.







