خلا کے جیسا کوئی درمیان بھی پڑتا پھروں ا سے سفر ہے وہ ہے وہ کہی آسمان بھی پڑتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوٹ کر تو رہا ہوں ہوا کے ماتھے پر مزہ تو جب تھا کہ کوئی نشان بھی پڑتا عجیب خواہشیں اٹھتی ہیں ا سے خرابے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزر رہے ہیں تو اپنا مکان بھی پڑتا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جہان کے پیچھے پڑے رہیں کب تک ہمارے پیچھے کبھی یہ جہان بھی پڑتا یہ اک کمی کہ جو اب زندگی سی لگتی ہے ہماری دھوپ ہے وہ ہے وہ حقیقت سایبان بھی پڑتا ہر ایک روز اسی زندگی کی تیاری سو چاہتے ہیں کبھی امتحاں بھی پڑتا
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Abhishek shukla
ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا قریب آئی تو سر و ساماں حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مری پھروں ا سے کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مری خیال کے وحشت کدے ہے وہ ہے وہ آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلا شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ آ کے ستاروں نے یہ کہا مجھ سے تری قریب سے گزرا ہے قافلہ شب کا سحر کا لم سے مری زندگی بڑھا دیتا م گر گراں تھا بے حد مجھ پہ کاٹنا شب کا کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہے کہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا چٹخ اٹھی ہے رگ جاں تو یہ خیال آیا کسی کی یاد سے جڑتا ہے سلسلہ شب کا
Abhishek shukla
1 likes
اب اختیار ہے وہ ہے وہ ہے لگ یہ روانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور مری طرح تو بھی ایک حقیقت ہے پھروں ا سے کے بعد جو اختیار ہے حقیقت کہانی ہے تری وجود ہے وہ ہے وہ کچھ ہے جو ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا نہیں تری خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے ذرا بھی دخل نہیں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہواؤں کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت اپنی خاک اڑانی ہے یہ خواب گاہ یہ آنکھیں یہ میرا مصلحتاً ہر ایک چیز مری ذات ہے وہ ہے وہ پرانی ہے حقیقت ایک دن جو تجھے اڑانی ہے وہ ہے وہ گزرا تھا تمام عمر اسی دن کی خواب گاہ ہے عشق قدیم ہے وہ ہے وہ سوچنے ہیں خوشبوئیں ج سے کی حقیقت ایک پھول کی لگتا ہے نواہ جاں ہے بھٹکتی تو کہی کچھ نہیں ہوا لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں یہ سانسوں کی خوشبوئیں ہے
Abhishek shukla
1 likes
ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جگا لاتے کچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کا ہم لو لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے پتا جو ہوتا کہ نکلےگا چاند جیسا کچھ ہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پر ہم ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی ہتھیلی پہ رنگ کیا لاتے ب سے اور کچھ بھی نہیں چاہتا تھا ہے وہ ہے وہ جاناں سے ذرا سی چیز تھی دنیا کہی چھپا لاتے ہمارے عزم کی شدت ا گر سمجھنی تھی تو ا سے سفر ہے وہ ہے وہ کوئی سخت مرحلہ لاتے
Abhishek shukla
0 likes
آبرو شب تیرا نہیں رکھنے والے ہم کہی پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے آئی لگ رکھنے کا الزام بھی آیا ہم پر جب کہ ہم لوگ تو چہرہ نہیں رکھنے والے ہم پہ فرہاد کا کچھ قرض نکلتا ہے سو ہم جاناں کہو بھی تو یہ تیشہ نہیں رکھنے والے ہم کو معلوم ہیں از رو محبت سو ہم کوئی بھی درد زیادہ نہیں رکھنے والے
Abhishek shukla
2 likes
در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں پھروں ا سے کے بعد تجھے سوچیں یہ غضب بھی کریں حقیقت ج سے نے شام کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا ہے ہم ا سے چراغ ہوا ساز کا ادب بھی کریں سیاہیاں سی گزرا لگی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ا سے ستارہ شب تاب کی طلب بھی کریں یہ امتیاز ضروری ہے اب عبادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی دعا جو نظر کر رہی ہے لب بھی کریں کہ چنو خواب دکھانا تسلیاں دینا کچھ ایک کام محبت ہے وہ ہے وہ بے سبب بھی کریں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ تعبیر ہی نہیں ممکن حقیقت مری خواب کی تشریح چاہے جب بھی کریں شکست خواب کی منزل بھی کب نئی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی جو کرتے چلے آئیں ہیں سو اب بھی کریں
Abhishek shukla
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abhishek shukla.
Similar Moods
More moods that pair well with Abhishek shukla's ghazal.







