ab to shahron se khabar aati hai divanon ki koi pahchan hi baaqi nahin viranon ki apni poshak se hushyar ki khuddam-e-qadim dhajjiyan mangte hain apne garebanon ki sanaten phailti jaati hain magar is ke saath sarhaden tutti jaati hain gulistanon ki dil men vo zakhm khile hain ki chaman kya shai hai ghar men barat si utri hui gul-danon ki un ko kya fikr ki main paar laga ya duuba bahs karte rahe sahil pe jo tufanon ki teri rahmat to musallam hai magar ye to bata kaun bijli ko khabar deta hai kashanon ki maqbare bante hain zindon ke makanon se buland kis qadar auj pe takrim hai insanon ki ek ik yaad ke hathon pe charaghhon bhare tasht kaaba-e-dil ki faza hai ki sanam-khanon ki ab to shahron se khabar aati hai diwanon ki koi pahchan hi baqi nahin viranon ki apni poshak se hushyar ki khuddam-e-qadim dhajjiyan mangte hain apne garebanon ki sanaten phailti jati hain magar is ke sath sarhaden tutti jati hain gulistanon ki dil mein wo zakhm khile hain ki chaman kya shai hai ghar mein baraat si utri hui gul-danon ki un ko kya fikr ki main par laga ya duba bahs karte rahe sahil pe jo tufanon ki teri rahmat to musallam hai magar ye to bata kaun bijli ko khabar deta hai kashanon ki maqbare bante hain zindon ke makanon se buland kis qadar auj pe takrim hai insanon ki ek ek yaad ke hathon pe charaghon bhare tasht kaba-e-dil ki faza hai ki sanam-khanon ki
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Ahmad Nadeem Qasmi
تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں تری شعلہ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا لگ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے غضب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں مری آنکھیں تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ جب تک ارزاں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ کبوتر کا لہو ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ پست اتنی تو لگ تھی مری شکست اے یاروں پر سمیٹے ہیں م گر حسرت پرواز کے ساتھ پہرے بیٹھے ہیں قف سے پر کہ ہے صیاد کو وہم پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ ا پیش بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
کہی حقیقت مری محبت ہے وہ ہے وہ گھل رہا ہی لگ ہوں خدا کرے اسے یہ غضب ہوا ہی لگ ہوں سپردگی میرا گاہے تو نہیں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں تری روپ ہے وہ ہے وہ خدا ہی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو پا کے بھی ک سے بے وجہ کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہوں مری خیال ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا ہی لگ ہوں حقیقت عذر کر کہ مری دل کو بھی یقین آئی حقیقت گیت گا کہ جو ہے وہ ہے وہ نے کبھی سنا ہی لگ ہوں حقیقت بات کر جسے پھیلا کے ہے وہ ہے وہ غزل کہ لوں سناؤں شعر جو ہے وہ ہے وہ نے ابھی لکھا ہی لگ ہوں سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہی یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی لگ ہوں ہوں کیسے جبر مشیت کو ا سے دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھروں کبھی جدا ہی لگ ہوں یہ ابر و کشت کی دنیا ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی لگ ہوں مری نگاہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہوں جو پھل سے م گر جھکا ہی لگ ہوں جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہی حقیقت توڑ کے کشکول مر گیا تو ہی لگ ہوں طلوع صبح نے
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
ہے وہ ہے وہ کسی بے وجہ سے بیزار نہیں ہوں سکتا ایک ذرہ بھی تو بے کار نہیں ہوں سکتا ا سے دودمان پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے کہ فرشتہ میرا گاہے نہیں ہوں سکتا اے خدا پھروں یہ جہنم کا تماشا کیا ہے تیرا شاہکار تو فنار نہیں ہوں سکتا اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہوں سکتا تو کہ اک موجہ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے حشر آتا ہے تو منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوں سکتا سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہوں سکتا راکھ سی مجل سے اقوام کی چٹکی ہے وہ ہے وہ ہے کیا کچھ بھی ہوں یہ میرا پندار نہیں ہوں سکتا ا سے حقیقت کو سمجھنے ہے وہ ہے وہ لٹایا کیا کچھ میرا دشمن میرا غم خوار نہیں ہوں سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھیجا تجھے ایوان حکومت ہے وہ ہے وہ م گر اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہوں سکتا تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہوں سکتا حقیقت جو شعروں ہے وہ ہے وہ ہے اک اجازت پ سے الفاظ ندیم ا سے کا الفاظ ہے وہ ہے وہ اظہار نہیں ہوں سکتا
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
एहसास में फूल खिल रहे हैं पतझड़ के अजीब सिलसिले हैं कुछ इतनी शदीद तीरगी है आँखों में सितारे तैरते हैं देखें तो हवा जमी हुई है सोचें तो दरख़्त झूमते हैं सुक़रात ने ज़हर पी लिया था हम ने जीने के दुख सहे हैं हम तुझ से बिगड़ के जब भी उठे फिर तेरे हुज़ूर आ गए हैं हम अक्स हैं एक दूसरे का चेहरे ये नहीं हैं आइने हैं लम्हों का ग़ुबार छा रहा है यादों के चराग़ जल रहे हैं सूरज ने घने सनोबरों में जाले से शुआ'ओं के बुने हैं यकसाँ हैं फ़िराक़-ओ-वस्ल दोनों ये मरहले एक से कड़े हैं पा कर भी तो नींद उड़ गई थी खो कर भी तो रत-जगे मिले हैं जो दिन तिरी याद में कटे थे माज़ी के खंडर बने खड़े हैं जब तेरा जमाल ढूँडते थे अब तेरा ख़याल ढूँडते हैं हम दिल के गुदाज़ से हैं मजबूर जब ख़ुश भी हुए तो रोए हैं हम ज़िंदा हैं ऐ फ़िराक़ की रात प्यारी तिरे बाल क्यूँँ खुले हैं
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
मिरा ग़ुरूर तुझे खो के हार मान गया मैं चोट खा के मगर अपनी क़द्र जान गया कहीं उफ़ुक़ न मिला मेरी दश्त-गर्दी को मैं तेरी धुन में भरी काएनात छान गया ख़ुदा के बा'द तो बे-इंतिहा अँधेरा है तिरी तलब में कहाँ तक न मेरा ध्यान गया जबीं पे बल भी न आता गँवा के दोनों-जहाँ जो तू छिना तो मैं अपनी शिकस्त मान गया बदलते रंग थे तेरी उमंग के ग़म्माज़ तू मुझ से बिछड़ा तो मैं तेरा राज़ जान गया ख़ुद अपने आप से मैं शिकवा-संज आज भी हूँ 'नदीम' यूँँ तो मुझे इक जहान मान गया
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Nadeem Qasmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Nadeem Qasmi's ghazal.







