ghazalKuch Alfaaz

کہی حقیقت مری محبت ہے وہ ہے وہ گھل رہا ہی لگ ہوں خدا کرے اسے یہ غضب ہوا ہی لگ ہوں سپردگی میرا گاہے تو نہیں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں تری روپ ہے وہ ہے وہ خدا ہی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو پا کے بھی ک سے بے وجہ کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہوں مری خیال ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا ہی لگ ہوں حقیقت عذر کر کہ مری دل کو بھی یقین آئی حقیقت گیت گا کہ جو ہے وہ ہے وہ نے کبھی سنا ہی لگ ہوں حقیقت بات کر جسے پھیلا کے ہے وہ ہے وہ غزل کہ لوں سناؤں شعر جو ہے وہ ہے وہ نے ابھی لکھا ہی لگ ہوں سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہی یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی لگ ہوں ہوں کیسے جبر مشیت کو ا سے دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھروں کبھی جدا ہی لگ ہوں یہ ابر و کشت کی دنیا ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی لگ ہوں مری نگاہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہوں جو پھل سے م گر جھکا ہی لگ ہوں جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہی حقیقت توڑ کے کشکول مر گیا تو ہی لگ ہوں طلوع صبح نے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Ahmad Nadeem Qasmi

تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں تری شعلہ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا لگ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے غضب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں مری آنکھیں تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ جب تک ارزاں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ کبوتر کا لہو ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ پست اتنی تو لگ تھی مری شکست اے یاروں پر سمیٹے ہیں م گر حسرت پرواز کے ساتھ پہرے بیٹھے ہیں قف سے پر کہ ہے صیاد کو وہم پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ ا پیش بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

ہے وہ ہے وہ کسی بے وجہ سے بیزار نہیں ہوں سکتا ایک ذرہ بھی تو بے کار نہیں ہوں سکتا ا سے دودمان پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے کہ فرشتہ میرا گاہے نہیں ہوں سکتا اے خدا پھروں یہ جہنم کا تماشا کیا ہے تیرا شاہکار تو فنار نہیں ہوں سکتا اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہوں سکتا تو کہ اک موجہ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے حشر آتا ہے تو منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوں سکتا سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہوں سکتا راکھ سی مجل سے اقوام کی چٹکی ہے وہ ہے وہ ہے کیا کچھ بھی ہوں یہ میرا پندار نہیں ہوں سکتا ا سے حقیقت کو سمجھنے ہے وہ ہے وہ لٹایا کیا کچھ میرا دشمن میرا غم خوار نہیں ہوں سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھیجا تجھے ایوان حکومت ہے وہ ہے وہ م گر اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہوں سکتا تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہوں سکتا حقیقت جو شعروں ہے وہ ہے وہ ہے اک اجازت پ سے الفاظ ندیم ا سے کا الفاظ ہے وہ ہے وہ اظہار نہیں ہوں سکتا

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں ب سے میرا چلے جو گردشوں پر دن کو بھی لگ چاند کو بجھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں امکان پہ ا سے دودمان یقین ہے صحراؤں ہے وہ ہے وہ بیج ڈال آؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شب کے مسافروں کی خاطر مشعل لگ ملے تو گھر جلاؤں اشعار ہیں مری استعارے آؤ تمہیں آئینے دکھاؤں یوں بٹ کے بکھر کے رہ گیا تو ہوں ہر بے وجہ ہے وہ ہے وہ اپنا عک سے پاؤں آواز جو دوں کسی کے در پر اندر سے بھی خود نکل کے آؤں اے چارگران عصر حاضر فولاد کا دل ک ہاں سے لاؤں ہر رات دعا کروں سحر کی ہر صبح نیا فریب کھاؤں ہر جبر پہ دل پامال کر رہا ہوں ا سے طرح کہی اجڑ لگ جاؤں رونا بھی تو طرز گفتگو ہے آنکھیں جو رکیں تو لب ہلاؤں خود کو تو ندیم آزمایا اب مر کے خدا کو آزماؤں

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

एहसास में फूल खिल रहे हैं पतझड़ के अजीब सिलसिले हैं कुछ इतनी शदीद तीरगी है आँखों में सितारे तैरते हैं देखें तो हवा जमी हुई है सोचें तो दरख़्त झूमते हैं सुक़रात ने ज़हर पी लिया था हम ने जीने के दुख सहे हैं हम तुझ से बिगड़ के जब भी उठे फिर तेरे हुज़ूर आ गए हैं हम अक्स हैं एक दूसरे का चेहरे ये नहीं हैं आइने हैं लम्हों का ग़ुबार छा रहा है यादों के चराग़ जल रहे हैं सूरज ने घने सनोबरों में जाले से शुआ'ओं के बुने हैं यकसाँ हैं फ़िराक़-ओ-वस्ल दोनों ये मरहले एक से कड़े हैं पा कर भी तो नींद उड़ गई थी खो कर भी तो रत-जगे मिले हैं जो दिन तिरी याद में कटे थे माज़ी के खंडर बने खड़े हैं जब तेरा जमाल ढूँडते थे अब तेरा ख़याल ढूँडते हैं हम दिल के गुदाज़ से हैं मजबूर जब ख़ुश भी हुए तो रोए हैं हम ज़िंदा हैं ऐ फ़िराक़ की रात प्यारी तिरे बाल क्यूँँ खुले हैं

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

پھروں بھيانک تیرگی ہے وہ ہے وہ آ گئے ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھا گئے ہاں یہ خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئینے کی چادریں پھیلا گئے ک سے تجلی کا دیا ہم کو فریب ک سے دھندلکے ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنچا گئے ان کا آنا حشر سے کچھ کم لگ تھا اور جب پلٹے خوشگوار ڈھا گئے اک پہیلی کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کر جواب اک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھروں وہی اختر شماری کا نصرت ہم تو ا سے تکرار سے اکتا گئے رہنماؤ رات ابھی باقی صحیح آج سیارے ا گر ٹکرا گئے کیا رسا نکلی دعا اجتہاد حقیقت چھپاتے ہی رہے ہم پا گئے ب سے وہی معمار فردا ہیں ندیم جن کو مری ولولے را سے آ گئے

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Nadeem Qasmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Nadeem Qasmi's ghazal.