پھروں بھيانک تیرگی ہے وہ ہے وہ آ گئے ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھا گئے ہاں یہ خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئینے کی چادریں پھیلا گئے ک سے تجلی کا دیا ہم کو فریب ک سے دھندلکے ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنچا گئے ان کا آنا حشر سے کچھ کم لگ تھا اور جب پلٹے خوشگوار ڈھا گئے اک پہیلی کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کر جواب اک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھروں وہی اختر شماری کا نصرت ہم تو ا سے تکرار سے اکتا گئے رہنماؤ رات ابھی باقی صحیح آج سیارے ا گر ٹکرا گئے کیا رسا نکلی دعا اجتہاد حقیقت چھپاتے ہی رہے ہم پا گئے ب سے وہی معمار فردا ہیں ندیم جن کو مری ولولے را سے آ گئے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Ahmad Nadeem Qasmi
کہی حقیقت مری محبت ہے وہ ہے وہ گھل رہا ہی لگ ہوں خدا کرے اسے یہ غضب ہوا ہی لگ ہوں سپردگی میرا گاہے تو نہیں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں تری روپ ہے وہ ہے وہ خدا ہی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو پا کے بھی ک سے بے وجہ کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہوں مری خیال ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا ہی لگ ہوں حقیقت عذر کر کہ مری دل کو بھی یقین آئی حقیقت گیت گا کہ جو ہے وہ ہے وہ نے کبھی سنا ہی لگ ہوں حقیقت بات کر جسے پھیلا کے ہے وہ ہے وہ غزل کہ لوں سناؤں شعر جو ہے وہ ہے وہ نے ابھی لکھا ہی لگ ہوں سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہی یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی لگ ہوں ہوں کیسے جبر مشیت کو ا سے دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھروں کبھی جدا ہی لگ ہوں یہ ابر و کشت کی دنیا ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی لگ ہوں مری نگاہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہوں جو پھل سے م گر جھکا ہی لگ ہوں جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہی حقیقت توڑ کے کشکول مر گیا تو ہی لگ ہوں طلوع صبح نے
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں تری شعلہ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا لگ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے غضب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں مری آنکھیں تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ جب تک ارزاں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ کبوتر کا لہو ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ پست اتنی تو لگ تھی مری شکست اے یاروں پر سمیٹے ہیں م گر حسرت پرواز کے ساتھ پہرے بیٹھے ہیں قف سے پر کہ ہے صیاد کو وہم پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ ا پیش بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں ب سے میرا چلے جو گردشوں پر دن کو بھی لگ چاند کو بجھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں امکان پہ ا سے دودمان یقین ہے صحراؤں ہے وہ ہے وہ بیج ڈال آؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شب کے مسافروں کی خاطر مشعل لگ ملے تو گھر جلاؤں اشعار ہیں مری استعارے آؤ تمہیں آئینے دکھاؤں یوں بٹ کے بکھر کے رہ گیا تو ہوں ہر بے وجہ ہے وہ ہے وہ اپنا عک سے پاؤں آواز جو دوں کسی کے در پر اندر سے بھی خود نکل کے آؤں اے چارگران عصر حاضر فولاد کا دل ک ہاں سے لاؤں ہر رات دعا کروں سحر کی ہر صبح نیا فریب کھاؤں ہر جبر پہ دل پامال کر رہا ہوں ا سے طرح کہی اجڑ لگ جاؤں رونا بھی تو طرز گفتگو ہے آنکھیں جو رکیں تو لب ہلاؤں خود کو تو ندیم آزمایا اب مر کے خدا کو آزماؤں
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
ہے وہ ہے وہ کسی بے وجہ سے بیزار نہیں ہوں سکتا ایک ذرہ بھی تو بے کار نہیں ہوں سکتا ا سے دودمان پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے کہ فرشتہ میرا گاہے نہیں ہوں سکتا اے خدا پھروں یہ جہنم کا تماشا کیا ہے تیرا شاہکار تو فنار نہیں ہوں سکتا اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہوں سکتا تو کہ اک موجہ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے حشر آتا ہے تو منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوں سکتا سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہوں سکتا راکھ سی مجل سے اقوام کی چٹکی ہے وہ ہے وہ ہے کیا کچھ بھی ہوں یہ میرا پندار نہیں ہوں سکتا ا سے حقیقت کو سمجھنے ہے وہ ہے وہ لٹایا کیا کچھ میرا دشمن میرا غم خوار نہیں ہوں سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھیجا تجھے ایوان حکومت ہے وہ ہے وہ م گر اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہوں سکتا تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہوں سکتا حقیقت جو شعروں ہے وہ ہے وہ ہے اک اجازت پ سے الفاظ ندیم ا سے کا الفاظ ہے وہ ہے وہ اظہار نہیں ہوں سکتا
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
मिरा ग़ुरूर तुझे खो के हार मान गया मैं चोट खा के मगर अपनी क़द्र जान गया कहीं उफ़ुक़ न मिला मेरी दश्त-गर्दी को मैं तेरी धुन में भरी काएनात छान गया ख़ुदा के बा'द तो बे-इंतिहा अँधेरा है तिरी तलब में कहाँ तक न मेरा ध्यान गया जबीं पे बल भी न आता गँवा के दोनों-जहाँ जो तू छिना तो मैं अपनी शिकस्त मान गया बदलते रंग थे तेरी उमंग के ग़म्माज़ तू मुझ से बिछड़ा तो मैं तेरा राज़ जान गया ख़ुद अपने आप से मैं शिकवा-संज आज भी हूँ 'नदीम' यूँँ तो मुझे इक जहान मान गया
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Nadeem Qasmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Nadeem Qasmi's ghazal.







