تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں تری شعلہ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا لگ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے غضب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں مری آنکھیں تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ جب تک ارزاں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ کبوتر کا لہو ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ پست اتنی تو لگ تھی مری شکست اے یاروں پر سمیٹے ہیں م گر حسرت پرواز کے ساتھ پہرے بیٹھے ہیں قف سے پر کہ ہے صیاد کو وہم پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ ا پیش بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے
Mehshar Afridi
73 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
More from Ahmad Nadeem Qasmi
کہی حقیقت مری محبت ہے وہ ہے وہ گھل رہا ہی لگ ہوں خدا کرے اسے یہ غضب ہوا ہی لگ ہوں سپردگی میرا گاہے تو نہیں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں تری روپ ہے وہ ہے وہ خدا ہی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو پا کے بھی ک سے بے وجہ کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہوں مری خیال ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا ہی لگ ہوں حقیقت عذر کر کہ مری دل کو بھی یقین آئی حقیقت گیت گا کہ جو ہے وہ ہے وہ نے کبھی سنا ہی لگ ہوں حقیقت بات کر جسے پھیلا کے ہے وہ ہے وہ غزل کہ لوں سناؤں شعر جو ہے وہ ہے وہ نے ابھی لکھا ہی لگ ہوں سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہی یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی لگ ہوں ہوں کیسے جبر مشیت کو ا سے دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھروں کبھی جدا ہی لگ ہوں یہ ابر و کشت کی دنیا ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی لگ ہوں مری نگاہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہوں جو پھل سے م گر جھکا ہی لگ ہوں جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہی حقیقت توڑ کے کشکول مر گیا تو ہی لگ ہوں طلوع صبح نے
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
मिरा ग़ुरूर तुझे खो के हार मान गया मैं चोट खा के मगर अपनी क़द्र जान गया कहीं उफ़ुक़ न मिला मेरी दश्त-गर्दी को मैं तेरी धुन में भरी काएनात छान गया ख़ुदा के बा'द तो बे-इंतिहा अँधेरा है तिरी तलब में कहाँ तक न मेरा ध्यान गया जबीं पे बल भी न आता गँवा के दोनों-जहाँ जो तू छिना तो मैं अपनी शिकस्त मान गया बदलते रंग थे तेरी उमंग के ग़म्माज़ तू मुझ से बिछड़ा तो मैं तेरा राज़ जान गया ख़ुद अपने आप से मैं शिकवा-संज आज भी हूँ 'नदीम' यूँँ तो मुझे इक जहान मान गया
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
پھروں بھيانک تیرگی ہے وہ ہے وہ آ گئے ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھا گئے ہاں یہ خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئینے کی چادریں پھیلا گئے ک سے تجلی کا دیا ہم کو فریب ک سے دھندلکے ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنچا گئے ان کا آنا حشر سے کچھ کم لگ تھا اور جب پلٹے خوشگوار ڈھا گئے اک پہیلی کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کر جواب اک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھروں وہی اختر شماری کا نصرت ہم تو ا سے تکرار سے اکتا گئے رہنماؤ رات ابھی باقی صحیح آج سیارے ا گر ٹکرا گئے کیا رسا نکلی دعا اجتہاد حقیقت چھپاتے ہی رہے ہم پا گئے ب سے وہی معمار فردا ہیں ندیم جن کو مری ولولے را سے آ گئے
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں ب سے میرا چلے جو گردشوں پر دن کو بھی لگ چاند کو بجھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں امکان پہ ا سے دودمان یقین ہے صحراؤں ہے وہ ہے وہ بیج ڈال آؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شب کے مسافروں کی خاطر مشعل لگ ملے تو گھر جلاؤں اشعار ہیں مری استعارے آؤ تمہیں آئینے دکھاؤں یوں بٹ کے بکھر کے رہ گیا تو ہوں ہر بے وجہ ہے وہ ہے وہ اپنا عک سے پاؤں آواز جو دوں کسی کے در پر اندر سے بھی خود نکل کے آؤں اے چارگران عصر حاضر فولاد کا دل ک ہاں سے لاؤں ہر رات دعا کروں سحر کی ہر صبح نیا فریب کھاؤں ہر جبر پہ دل پامال کر رہا ہوں ا سے طرح کہی اجڑ لگ جاؤں رونا بھی تو طرز گفتگو ہے آنکھیں جو رکیں تو لب ہلاؤں خود کو تو ندیم آزمایا اب مر کے خدا کو آزماؤں
Ahmad Nadeem Qasmi
0 likes
اندھیری رات کو یہ معجزہ دکھائیں گے ہم چراغ ا گر لگ جلا اپنا دل ج لائیں گے ہم ہماری کوہکنی کے ہیں مختلف گاہے پہاڑ کاٹ کے رستے نئے بنائیں گے ہم جنون عشق پہ تنقید اپنا کام نہیں گلوں کو نوچ کے کیوں تتلیاں اڑائیں گے ہم جو دل دکھا ہے تو یہ عزم بھی ملا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمام عمر کسی کا لگ دل دکھائیں گے ہم ا گر ہے موت ہے وہ ہے وہ کچھ لطف تو ب سے اتنا ہے کہ ا سے کے بعد خدا کا سراغ پائیں گے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو قبر بھی تنہا لگ کر سکےگی ندیم کہ ہر طرف سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو قریب پائیں گے ہم
Ahmad Nadeem Qasmi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Nadeem Qasmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Nadeem Qasmi's ghazal.







