اب تو ہوں کسی رنگ ہے وہ ہے وہ ظاہر تو مجھے کیا ٹھہرے تری گھر کوئی مسافر تو مجھے کیا ویرا لگ جاں کی جو فضا تھی سو رہےگی چہکے کسی گلشن ہے وہ ہے وہ حقیقت طائر تو مجھے کیا حقیقت شمع مری گھر ہے وہ ہے وہ تو بے نور ہی ٹھہری بازار ہے وہ ہے وہ حقیقت جن سے ہوں نادر تو مجھے کیا حقیقت رنگ فشاں آنکھ حقیقت تصویر نما ہاتھ دکھلائیں نئے روز مناظر تو مجھے کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اسے چاہا تھا تو چاہا لگ گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہے مجھے اب حقیقت مری خاطر تو مجھے کیا دنیا نے تو جانا کہ نمو ا سے ہے وہ ہے وہ ہے مری اب ہوں حقیقت مری ذات کا منکر تو مجھے کیا اک خواب تھا اور بجھ گیا تو آنکھوں ہی ہے وہ ہے وہ اپنی اب کوئی پکارے مری شاعر تو مجھے کیا
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Obaidullah Aleem
वो रात बे-पनाह थी और मैं ग़रीब था वो जिस ने ये चराग़ जलाया अजीब था वो रौशनी कि आँख उठाई नहीं गई कल मुझ से मेरा चाँद बहुत ही क़रीब था देखा मुझे तो तब्अ रवाँ हो गई मिरी वो मुस्कुरा दिया तो मैं शाइ'र अदीब था रखता न क्यूँँ मैं रूह ओ बदन उस के सामने वो यूँँ भी था तबीब वो यूँँ भी तबीब था हर सिलसिला था उस का ख़ुदा से मिला हुआ चुप हो कि लब-कुशा हो बला का ख़तीब था मौज-ए-नशात ओ सैल-ए-ग़म-ए-जाँ थे एक साथ गुलशन में नग़्मा-संज अजब अंदलीब था मैं भी रहा हूँ ख़ल्वत-ए-जानाँ में एक शाम ये ख़्वाब है या वाक़ई मैं ख़ुश-नसीब था हर्फ़-ए-दुआ ओ दस्त-ए-सख़ावत के बाब में ख़ुद मेरा तजरबा है वो बे-हद नजीब था देखा है उस को ख़ल्वत ओ जल्वत में बार-हा वो आदमी बहुत ही अजीब-ओ-ग़रीब था लिक्खो तमाम उम्र मगर फिर भी तुम 'अलीम' उस को दिखा न पाओ वो ऐसा हबीब था
Obaidullah Aleem
0 likes
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے
Obaidullah Aleem
1 likes
کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں
Obaidullah Aleem
1 likes
عذاب آئی تھے ایسے کہ پھروں لگ گھر سے گئے حقیقت زندہ لوگ مری گھر کے چنو مر سے گئے ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ لگ جانے کیا ہوا اک آن ہے وہ ہے وہ بکھر سے گئے چیزیں والوں کا دکھ ہوں تو سوچ لینا یہی کہ اک نوا پریشاں تھے رہگزر سے گئے ہزار راہ چلے پھروں حقیقت رہگزر آئی کہ اک سفر ہے وہ ہے وہ رہے اور ہر سفر سے گئے کبھی حقیقت جسم ہوا اور کبھی حقیقت روح تمام اسی کے خواب تھے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہم جدھر سے گئے یہ حال ہوں گیا تو آخر تری محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چاہتے ہیں تجھے اور تری خبر سے گئے میرا ہی رنگ تھے تو کیوں لگ ب سے رہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہی خواب تھے تو کیوں مری نظر سے گئے جو زخم زخم زبان بھی ہے اور نمو بھی ہے تو پھروں یہ وہم ہے کیسا کہ ہم ہنر سے گئے
Obaidullah Aleem
1 likes
ذکر وفا سا حرص و ہوا سا لگتا ہے یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے جسے بھی دیکھو حقیقت کھویا ہوا سا لگتا ہے زمین ہے سو حقیقت اپنی گردشوں ہے وہ ہے وہ کہی جو چاند ہے سو حقیقت ٹوٹا ہوا سا لگتا ہے مری وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو جو جاناں کہو مجھے قہر خدا سا لگتا ہے جو شام آئی تو پھروں شام کا لگا دربار جو دن ہوا تو حقیقت دن کربلا سا لگتا ہے یہ رات کھا گئی اک ایک کر کے سارے چراغ جو رہ گیا تو ہے حقیقت شورش ہوا سا لگتا ہے دعا کروں کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے لیے دعا ہوں جاؤں حقیقت ایک بے وجہ جو دل کو دعا سا لگتا ہے تو دل ہے وہ ہے وہ بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام کبھی کبھی جو مجھے تو بجھا سا لگتا ہے جو آ رہی ہے صدا غور سے سنو ا سے کو کہ ا سے صدا ہے وہ ہے وہ خدا بولتا سا لگتا ہے ابھی خرید لیں دنیا ک ہاں کی مہنگی ہے م گر ضمیر کا سودا برا سا لگتا ہے یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد غضب سکون ہے وہ ہے وہ سویا ہوا سا لگتا ہے ہوا رنگ دو عالم ہے وہ ہے وہ جاگتی
Obaidullah Aleem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Obaidullah Aleem.
Similar Moods
More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.







