عذاب آئی تھے ایسے کہ پھروں لگ گھر سے گئے حقیقت زندہ لوگ مری گھر کے چنو مر سے گئے ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ لگ جانے کیا ہوا اک آن ہے وہ ہے وہ بکھر سے گئے چیزیں والوں کا دکھ ہوں تو سوچ لینا یہی کہ اک نوا پریشاں تھے رہگزر سے گئے ہزار راہ چلے پھروں حقیقت رہگزر آئی کہ اک سفر ہے وہ ہے وہ رہے اور ہر سفر سے گئے کبھی حقیقت جسم ہوا اور کبھی حقیقت روح تمام اسی کے خواب تھے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہم جدھر سے گئے یہ حال ہوں گیا تو آخر تری محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چاہتے ہیں تجھے اور تری خبر سے گئے میرا ہی رنگ تھے تو کیوں لگ ب سے رہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہی خواب تھے تو کیوں مری نظر سے گئے جو زخم زخم زبان بھی ہے اور نمو بھی ہے تو پھروں یہ وہم ہے کیسا کہ ہم ہنر سے گئے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Obaidullah Aleem
کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں
Obaidullah Aleem
1 likes
ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے
Obaidullah Aleem
1 likes
جو اس کا نے کیا اسے صلہ دے مولا مجھے دل پامال کی جزا دے یا میرے دیے کی لو بڑھا دے یا رات کو صبح سے ملا دے سچ ہوں تو مجھے فدا بنا دے جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے یہ قوم عجیب ہوں گئی ہے اس کا کا قوم کو خو انبیا دے اترےگا نہ کوئی آسماں سے اک آس ہے وہ ہے وہ دل مگر صدا دے بچوں کی طرح یہ لفظ میرے معبود نہ بولنا سکھا دے دکھ دہر کے اپنے نام لکھوں ہر دکھ مجھے ذات کا مزہ دے اک میرا وجود سن رہا ہے الہام جو رات کی ہوا دے مجھ سے میرا کوئی ملنے والا بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو اب دست ہوس ہے وہ ہے وہ آئینہ دے جس بے وجہ نے عمر ہجر کاٹی اس کا کا بے وجہ کو ایک رات کیا دے دکھتا ہے بدن کہ پھروں ملے حقیقت مل جائے تو روح کو دکھا دے کیا چیز ہے خواہش بدن بھی ہر بار نیا ہی ذائقہ دے چھونے ہے وہ ہے وہ یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں چھو لوں تو حقیقت زندگی سوا دے
Obaidullah Aleem
1 likes
چہرہ ہوا ہے وہ ہے وہ اور مری تصویر ہوئے سب ہے وہ ہے وہ ہے وہ لفظ ہوا مجھ ہے وہ ہے وہ ہی زنجیر ہوئے سب بنیاد بھی مری در و دیوار بھی مری تعمیر ہوا ہے وہ ہے وہ کہ یہ تعمیر ہوئے سب ویسے ہی لکھوگے تو میرا نام بھی ہوگا جو لفظ لکھے حقیقت مری جاگیر ہوئے سب مرتے ہیں م گر موت سے پہلے نہیں مرتے یہ واقعہ ایسا ہے کہ کانپتا ہوئے سب حقیقت اہل سایہ رحمت کی طرح تھے ہم اتنے گھٹے اپنی ہی تعزیر ہوئے سب ا سے لفظ کی مانند جو کھلتا ہی چلا جائے یہ ذات و زماں مجھ سے ہی تحریر ہوئے سب اتنا سخن میر نہیں سہل خدا خیر چار چھے بھی اب معتقد میر ہوئے سب
Obaidullah Aleem
1 likes
پا بزنجیر صحیح زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ محفل وقت تری روح رواں ہیں ہم لوگ دوش پر بار شب غم لیے گل کی مانند کون سمجھے کہ محبت کی زبان ہیں ہم لوگ خوب پایا ہے صلہ تیری پرستاری کا دیکھ اے صبح طرب آج کہاں ہیں ہم لوگ اک متا دل و جاں پا سے تھی سو ہار چکے ہاں یہ یہ وقت کہ اب خود پہ گراں ہیں ہم لوگ نکہت گل کی طرح ناز سے چلنے والو ہم بھی کہتے تھے کہ آسودہ جاں ہیں ہم لوگ کوئی بتلائے کہ کیسے یہ خبر آم کریں ڈھونڈتی ہے جسے دنیا حقیقت نشان ہیں ہم لوگ قسمت شب زدگاں جاگ ہی جائے گی علیم جرس قافلہ خوش خبران ہیں ہم لوگ
Obaidullah Aleem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Obaidullah Aleem.
Similar Moods
More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.







