اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں کون رہتا تھا کہاں یاد نہیں جلوۂ حسن ازل تھے وہ دیار جن کے اب نام و نشاں یاد نہیں کوئی اجلا سا بھلا سا گھر تھا کس کو دیکھا تھا وہاں یاد نہیں یاد ہے زینۂ پیچاں اس کا در و دیوار مکاں یاد نہیں یاد ہے زمزمۂ ساز بہار شور آواز خزاں یاد نہیں
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Ahmad Mushtaq
हाथ से नापता हूँ दर्द की गहराई को ये नया खेल मिला है मेरी तन्हाई को था जो सीने में चराग़-ए-दिल-पुर-ख़ूँ न रहा चाटिए बैठ के अब सब्र-ओ-शकेबाई को दिल-ए-अफ़सुर्दा किसी तरह बहलता ही नहीं क्या करें आप की इस हौसला-अफ़ज़ाई को ख़ैर बदनाम तो पहले भी बहुत थे लेकिन तुझ से मिलना था कि पर लग गए रुस्वाई को निगह-ए-नाज़ न मिलते हुए घबरा हम से हम मोहब्बत नहीं कहने के शनासाई को दिल है नैरंगी-ए-अय्याम पे हैराँ अब तक इतनी सी बात भी मालूम नहीं भाई को
Ahmad Mushtaq
0 likes
خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Ahmad Mushtaq
0 likes
کھڑے ہیں دل ہے وہ ہے وہ جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بے حد ادا سے ہوں جاناں اور ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر تراش سے کمر تراش لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے ک ہاں ک ہاں لگ گئے عالم خیال ہے وہ ہے وہ ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے حقیقت شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی صدا نال دود و شرر لگائے ہوئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب اہل ہوں سے نا پسند رکھتے ہیں کہ ہم نوا محبت بلند رکھتے ہیں اسی لیے تو خفا ہیں پ سے مرگ کہ ہم نگاہ نرم و دل دردمند رکھتے ہیں اگرچہ دل وہی رجعت پسند ہے اپنا م گر زبان ترقی پسند رکھتے ہیں ہم ایسے عرش نشینوں سے حقیقت درخت اچھے جو آندھیوں ہے وہ ہے وہ بھی سر کو بلند رکھتے ہیں چلے ہوں دیکھنے مشتاق جن کو پچھلی رات حقیقت لوگ شام سے دروازہ بند رکھتے ہیں
Ahmad Mushtaq
0 likes
چاند ا سے گھر کے دریچوں کے برابر آیا دل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں تری یاد کا بادل مری سر پر آیا بجھ گئی رونق پروا لگ تو محفل چمکی سو گئے اہل تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی خموشی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا
Ahmad Mushtaq
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







