اب کے چہرے پہ حقیقت درار آئی آئی لگ بن گیا تو تماشائی اپنا دل چنو پھوڑی آنکھ کوئی ا سے کی یادیں کہ چنو پروائی ایک مدت کے بعد ہم نے سرسری اس کا کا کو دیکھا تو اپنی یاد آئی
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا
Javed Akhtar
62 likes
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے
Ahmad Abdullah
50 likes
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی دین ہے وہ ہے وہ تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ ب سے باتوں ہی باتوں ہے وہ ہے وہ بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کا کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھروں سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہے اتنی جزئیات ا سے سانحے کی پوچھیے مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے ہے وہ ہے وہ بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہ کے خود کو مطمئن کر لوگے جواد کہ حقیقت ہے بھی اسی جائیں گے لہذا بھول جاؤں
Jawwad Sheikh
42 likes
More from Subhan Asad
ا سے طرح سے خواب گاہ کر گیا تو مری اشکوں کو حقیقت پانی کر گیا تو ا سے نے چہرے سے ہٹا ڈالا نقاب اور مری غزلیں پرانی کر گیا تو رکھ گیا تو حقیقت اپنے کپڑے سوکھنے دھوپ بھی کتنی سہانی کر گیا تو بھول جانے کی قسم دینا تیرا یاد آنے کی نشانی کر گیا تو دو گھڑی کو پا سے آیا تھا کوئی دل پہ برسوں حکمرانی کر گیا تو ج سے پہ ہے وہ ہے وہ ایمان لے آیا سرسری مجھ سے حقیقت ہی بے ایمانی کر گیا تو
Subhan Asad
1 likes
درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں عکس روتے ہیں تو شیشوں سے لپٹ جاتے ہیں ہاں یہ حقیقت لوگ جنہیں ہم نے بھلا رکھا ہے یاد آتے ہیں تو سانسوں سے لپٹ جاتے ہیں کس کے پیروں کے نشان ہیں کہ مسافر بھی اب منزلیں بھول کے رستوں سے لپٹ جاتے ہیں جب حقیقت روتا ہے تو یک لخت مری پیاس کے ہونٹ اس کا کا کی آنکھوں کے کناروں سے لپٹ جاتے ہیں جب انہیں نیند پناہیں نہیں دیتی ہیں سرسری خواب پھروں جاگتی آنکھوں سے لپٹ جاتے ہیں
Subhan Asad
1 likes
حقیقت جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت ا سے کی یادیں اترتی رہتی ہیں ذہن و دل پہ عذاب کی صورت یہ رویہ صحیح نہیں ہوتا یوں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ مت ڈالو یا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کی طرح اپنا لو یا بھلا بھی دو خواب کی صورت ا سے نے ان دیکھا لگ سنا کر کے بے تعلق کیا ہے تو اب ہم ا سے کی تصویر سے نکالیں گے آنسوؤں کے حساب کی صورت اپنی جھوٹی انا کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ا سے کو سلا تو بیٹھے ہیں اب ہیں صحراؤں کے مسافر ہم اور حقیقت صورت سراب کی صورت
Subhan Asad
0 likes
رگ جاں ہے وہ ہے وہ سما جاتی ہوں جاناں جاناں اتنا یاد کیوں آتی ہوں جاناں تمہارے سائے ہے پہلو ہے وہ ہے وہ اب تک کہ جا کر بھی ک ہاں جاتی ہوں جاناں مری نیندیں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھی ہیں جاناں نے یہ کیسے خواب دکھلاتی ہوں جاناں کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد کھاتی ہوں جاناں حقیقت سنتا ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی دھڑکنوں سے جاناں آنکھوں سے جو کہ جاتی ہوں جاناں پرایا پن نہیں اپنائیت ہے جو یوں آنکھیں چرا جاتی ہوں جاناں
Subhan Asad
0 likes
مجھے ملال ہے وہ ہے وہ رکھنا خوشی تمہاری تھی م گر ہے وہ ہے وہ خوش ہوں کہ وابستگی تمہاری تھی بچھڑ کے جاناں سے اڑائے ہوں گئے تو یہ جانا ہمارے حسن ہے وہ ہے وہ سب دلکشی تمہاری تھی ب نام شرط محبت یہ خوشی بہنے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خبر ہے کہ جو قیامت تمہاری تھی حقیقت صرف ہے وہ ہے وہ تو نہیں تھا جو ہجر ہے وہ ہے وہ رویا حقیقت کیفیت جو مری تھی وہی تمہاری تھی گلہ نہیں کہ مری حال پر ہنسی دنیا گلہ تو یہ ہے کہ پہلی ہنسی تمہاری تھی
Subhan Asad
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Subhan Asad.
Similar Moods
More moods that pair well with Subhan Asad's ghazal.







