ghazalKuch Alfaaz

ا سے طرح سے خواب گاہ کر گیا تو مری اشکوں کو حقیقت پانی کر گیا تو ا سے نے چہرے سے ہٹا ڈالا نقاب اور مری غزلیں پرانی کر گیا تو رکھ گیا تو حقیقت اپنے کپڑے سوکھنے دھوپ بھی کتنی سہانی کر گیا تو بھول جانے کی قسم دینا تیرا یاد آنے کی نشانی کر گیا تو دو گھڑی کو پا سے آیا تھا کوئی دل پہ برسوں حکمرانی کر گیا تو ج سے پہ ہے وہ ہے وہ ایمان لے آیا سرسری مجھ سے حقیقت ہی بے ایمانی کر گیا تو

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Subhan Asad

حقیقت جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت ا سے کی یادیں اترتی رہتی ہیں ذہن و دل پہ عذاب کی صورت یہ رویہ صحیح نہیں ہوتا یوں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ مت ڈالو یا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کی طرح اپنا لو یا بھلا بھی دو خواب کی صورت ا سے نے ان دیکھا لگ سنا کر کے بے تعلق کیا ہے تو اب ہم ا سے کی تصویر سے نکالیں گے آنسوؤں کے حساب کی صورت اپنی جھوٹی انا کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ا سے کو سلا تو بیٹھے ہیں اب ہیں صحراؤں کے مسافر ہم اور حقیقت صورت سراب کی صورت

Subhan Asad

0 likes

ا سے کا غم ہے کہ مجھے وہم ہوا ہے شاید کوئی پہلو ہے وہ ہے وہ مری جاگ رہا ہے شاید جاگتے جاگتے پچھلی کئی راتیں گزری چاند ہونا مری قسمت ہے وہ ہے وہ لکھا ہے شاید دوڑ جاؤں ہر اک آہٹ پہ کواڑوں کی طرف اور پھروں خود کو ہی سمجھاؤں ہوا ہے شاید ا سے کی باتوں سے حقیقت اب پھول نہیں جھڑتے ہیں ا سے کے ہونٹوں پہ ابھی میرا گلہ ہے شاید ا سے کو کھولوں تو رگ دل کو کوئی دستا ہے یاد کی گٹھری ہے وہ ہے وہ اک سانپ چھپا ہے شاید مجھ کو ہر راہ اجالوں سے بھری ملتی ہے یہ ان آنکھوں کے چراغوں کی دعا ہے شاید

Subhan Asad

4 likes

درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں عکس روتے ہیں تو شیشوں سے لپٹ جاتے ہیں ہاں یہ حقیقت لوگ جنہیں ہم نے بھلا رکھا ہے یاد آتے ہیں تو سانسوں سے لپٹ جاتے ہیں کس کے پیروں کے نشان ہیں کہ مسافر بھی اب منزلیں بھول کے رستوں سے لپٹ جاتے ہیں جب حقیقت روتا ہے تو یک لخت مری پیاس کے ہونٹ اس کا کا کی آنکھوں کے کناروں سے لپٹ جاتے ہیں جب انہیں نیند پناہیں نہیں دیتی ہیں سرسری خواب پھروں جاگتی آنکھوں سے لپٹ جاتے ہیں

Subhan Asad

1 likes

اب کے چہرے پہ حقیقت درار آئی آئی لگ بن گیا تو تماشائی اپنا دل چنو پھوڑی آنکھ کوئی ا سے کی یادیں کہ چنو پروائی ایک مدت کے بعد ہم نے سرسری اس کا کا کو دیکھا تو اپنی یاد آئی

Subhan Asad

2 likes

رگ جاں ہے وہ ہے وہ سما جاتی ہوں جاناں جاناں اتنا یاد کیوں آتی ہوں جاناں تمہارے سائے ہے پہلو ہے وہ ہے وہ اب تک کہ جا کر بھی ک ہاں جاتی ہوں جاناں مری نیندیں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھی ہیں جاناں نے یہ کیسے خواب دکھلاتی ہوں جاناں کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد کھاتی ہوں جاناں حقیقت سنتا ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی دھڑکنوں سے جاناں آنکھوں سے جو کہ جاتی ہوں جاناں پرایا پن نہیں اپنائیت ہے جو یوں آنکھیں چرا جاتی ہوں جاناں

Subhan Asad

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Subhan Asad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Subhan Asad's ghazal.