ghazalKuch Alfaaz

حقیقت جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت ا سے کی یادیں اترتی رہتی ہیں ذہن و دل پہ عذاب کی صورت یہ رویہ صحیح نہیں ہوتا یوں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ مت ڈالو یا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کی طرح اپنا لو یا بھلا بھی دو خواب کی صورت ا سے نے ان دیکھا لگ سنا کر کے بے تعلق کیا ہے تو اب ہم ا سے کی تصویر سے نکالیں گے آنسوؤں کے حساب کی صورت اپنی جھوٹی انا کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ا سے کو سلا تو بیٹھے ہیں اب ہیں صحراؤں کے مسافر ہم اور حقیقت صورت سراب کی صورت

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

More from Subhan Asad

ا سے طرح سے خواب گاہ کر گیا تو مری اشکوں کو حقیقت پانی کر گیا تو ا سے نے چہرے سے ہٹا ڈالا نقاب اور مری غزلیں پرانی کر گیا تو رکھ گیا تو حقیقت اپنے کپڑے سوکھنے دھوپ بھی کتنی سہانی کر گیا تو بھول جانے کی قسم دینا تیرا یاد آنے کی نشانی کر گیا تو دو گھڑی کو پا سے آیا تھا کوئی دل پہ برسوں حکمرانی کر گیا تو ج سے پہ ہے وہ ہے وہ ایمان لے آیا سرسری مجھ سے حقیقت ہی بے ایمانی کر گیا تو

Subhan Asad

1 likes

درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں عکس روتے ہیں تو شیشوں سے لپٹ جاتے ہیں ہاں یہ حقیقت لوگ جنہیں ہم نے بھلا رکھا ہے یاد آتے ہیں تو سانسوں سے لپٹ جاتے ہیں کس کے پیروں کے نشان ہیں کہ مسافر بھی اب منزلیں بھول کے رستوں سے لپٹ جاتے ہیں جب حقیقت روتا ہے تو یک لخت مری پیاس کے ہونٹ اس کا کا کی آنکھوں کے کناروں سے لپٹ جاتے ہیں جب انہیں نیند پناہیں نہیں دیتی ہیں سرسری خواب پھروں جاگتی آنکھوں سے لپٹ جاتے ہیں

Subhan Asad

1 likes

مجھے ملال ہے وہ ہے وہ رکھنا خوشی تمہاری تھی م گر ہے وہ ہے وہ خوش ہوں کہ وابستگی تمہاری تھی بچھڑ کے جاناں سے اڑائے ہوں گئے تو یہ جانا ہمارے حسن ہے وہ ہے وہ سب دلکشی تمہاری تھی ب نام شرط محبت یہ خوشی بہنے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خبر ہے کہ جو قیامت تمہاری تھی حقیقت صرف ہے وہ ہے وہ تو نہیں تھا جو ہجر ہے وہ ہے وہ رویا حقیقت کیفیت جو مری تھی وہی تمہاری تھی گلہ نہیں کہ مری حال پر ہنسی دنیا گلہ تو یہ ہے کہ پہلی ہنسی تمہاری تھی

Subhan Asad

2 likes

رگ جاں ہے وہ ہے وہ سما جاتی ہوں جاناں جاناں اتنا یاد کیوں آتی ہوں جاناں تمہارے سائے ہے پہلو ہے وہ ہے وہ اب تک کہ جا کر بھی ک ہاں جاتی ہوں جاناں مری نیندیں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھی ہیں جاناں نے یہ کیسے خواب دکھلاتی ہوں جاناں کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد کھاتی ہوں جاناں حقیقت سنتا ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی دھڑکنوں سے جاناں آنکھوں سے جو کہ جاتی ہوں جاناں پرایا پن نہیں اپنائیت ہے جو یوں آنکھیں چرا جاتی ہوں جاناں

Subhan Asad

0 likes

اب کے چہرے پہ حقیقت درار آئی آئی لگ بن گیا تو تماشائی اپنا دل چنو پھوڑی آنکھ کوئی ا سے کی یادیں کہ چنو پروائی ایک مدت کے بعد ہم نے سرسری اس کا کا کو دیکھا تو اپنی یاد آئی

Subhan Asad

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Subhan Asad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Subhan Asad's ghazal.