ghazalKuch Alfaaz

agar bazm-e-hasti men aurat na hoti khayalon ki rangin jannat na hoti sitaron ke dilkash fasane na hote baharon ki nazuk haqiqat na hoti jabinon pe nur-e-masarrat na khilta nigahon men shan-e-muravvat na hoti ghataon ki aamad ko savan taraste fazaon men bahki baghhavat na hoti faqiron ko irfan-e-hasti na milta ata zahidon ko ibadat na hoti musafir sada manzilon par bhatakte safinon ko sahil ki qurbat na hoti har ik phuul ka rang phika sa rahta nasim-e-baharan men nikhat na hoti khudai ka insaf khamosh rahta suna hai kisi ki shafaat na hoti agar bazm-e-hasti mein aurat na hoti khayalon ki rangin jannat na hoti sitaron ke dilkash fasane na hote bahaaron ki nazuk haqiqat na hoti jabinon pe nur-e-masarrat na khilta nigahon mein shan-e-murawwat na hoti ghataon ki aamad ko sawan taraste fazaon mein bahki baghawat na hoti faqiron ko irfan-e-hasti na milta ata zahidon ko ibaadat na hoti musafir sada manzilon par bhatakte safinon ko sahil ki qurbat na hoti har ek phul ka rang phika sa rahta nasim-e-bahaaran mein nikhat na hoti khudai ka insaf khamosh rahta suna hai kisi ki shafaat na hoti

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Saghar Siddiqui

ہے وہ ہے وہ تلخی حیات سے نزدیک تر کے پی گیا تو غم کی سیاہ رات سے نزدیک تر کے پی گیا تو اتنی دقیق اجازت کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے نزدیک تر کے پی گیا تو چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی شکر گزاری کچھ ایسے حادثات سے نزدیک تر کے پی گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنی ذات سے نزدیک تر کے پی گیا تو دنیا حادثات ہے اک دردناک گیت دنیا حادثات سے نزدیک تر کے پی گیا تو کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ا سے کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے نزدیک تر کے پی گیا تو میک اپ حقیقت کہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور ان کی گزارشات سے نزدیک تر کے پی گیا تو

Saghar Siddiqui

3 likes

اے دل بے قرار چپ ہوں جا جا چکی ہے بہار چپ ہوں جا اب لگ آئیں گے روٹھنے والے دیدہ خوشی بار چپ ہوں جا جا چکا کارواں لالہ و گل اڑ رہا ہے غمدیدہ چپ ہوں جا چھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو روٹھ جاتے ہیں یار چپ ہوں جا ہم فقیروں کا ا سے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہے غم گسار چپ ہوں جا حادثوں کی لگ آنکھ کھل جائے حسرت سوگوار چپ ہوں جا گیت کی قابو سے بھی اے میک اپ ٹوٹ جاتے ہیں تار چپ ہوں جا

Saghar Siddiqui

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Saghar Siddiqui.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Saghar Siddiqui's ghazal.