غضب کش مکش ہے غضب ہے کشاکش یہ کیا بیچ ہے وہ ہے وہ ہے ہمارے تمہارے ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت کی خاطر مراسم ہیں سارے ہیں چاروں طرف ہی بے حد لوگ لیکن حقیقت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی اپنا نہیں ہے دکھاوا دکھاوا سبھی کچھ دکھاوا دکھاوے ہے وہ ہے وہ جیتے ہیں سارے کے سارے بلن گرا پہ جن کو بھی دیکھا یہ پایا سبھی آسرا پھروں رہے ہیں کسے سرپرستی کے قابل سمجھئے جیے جا رہے ہیں خود اپنے سہارے سبھی اپنی اپنی کہے جا رہے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے چینے لیے جا رہے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاطر بھی رہنے دو تھوڑا نہیں کوئی اپنا سوا اب ہمارے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی زد ہے وہ ہے وہ ہی رہنا پڑےگا خو گرا کو خو گرا ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑےگا لگ آ پہ سے باہر تو آنا سمندر سمندر کو سمجھا رہے ہیں کنارے فقط دوریوں ہے وہ ہے وہ ہی ساری کشش ہے کہ نز گرا کیوں سے بھرم ٹوٹتے ہیں فلک پہ چمکنا ہے قسمت ہماری ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے یہ کہتے ہیں ٹوٹے ستارے تم یہ جھوٹے سے رشتے یہ حرامی سے کم عقل ک ہاں تک نبھائیں ک ہاں تک نبھائیں بے حد ہوں چکا ب سے بے حد ہوں چک
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Deepti Mishra
بے حد بےچینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں پانا کھونا ہنسنا رونا کیا ہے آخر کچھ بھی نہیں اپنی اپنی قسمت سب کی اپنا اپنا حصہ ہے جسم کی خاطر لاکھوں سامان روح کی خاطر کچھ بھی نہیں ا سے کی بازی ا سے کے مہرے ا سے کی چالیں ا سے کی جیت ا سے کے آگے سارے قادر ماہر شاطر کچھ بھی نہیں ا سے کا ہونا یا نا ہونا خود ہے وہ ہے وہ اجا گر ہوتا ہے گر حقیقت ہے تو بھیتر ہی ہے ور لگ بظاہر کچھ بھی نہیں دنیا سے جو پایا ا سے نے دنیا ہی کو سونپ دیا غزلیں نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا کی ہیں کیا ہے شاعر کچھ بھی نہیں
Deepti Mishra
1 likes
سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھروں بھی بلکل سچا لگتا ہے جان بوجھ کر دھوکہ خا لگ کتنا اچھا لگتا ہے اینٹ اور پتھر مٹی گارے کے مضبوط مکانوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکی دیواروں کے پیچھے ہر گھر تکبر لگتا ہے آپ بناتا ہے پہلے پھروں اپنے آپ مٹاتا ہے دنیا کا خالق ہم کو اک ض گرا بچہ لگتا ہے ا سے نے ساری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ توڑیں سارے نازکی جھوٹے تھے پھروں بھی ہم کو ا سے کا ہونا اب بھی اچھا لگتا ہے اسے یقین ہے بے ایمانی بن حقیقت بازی جیتےگا اچھا انساں ہے پر ابھی کھلاڑی تکبر لگتا ہے
Deepti Mishra
3 likes
حقیقت نہیں میرا م گر ا سے سے محبت ہے تو ہے یہ ا گر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو ہے وہ ہے وہ نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا اب زمانے کی نظر ہے وہ ہے وہ یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا ہے وہ ہے وہ نے کہ حقیقت مل جائے مجھ کو ہے وہ ہے وہ اسے غیر لگ ہوں جائے حقیقت ب سے اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا تو پروا لگ گر تو کیا غلطیاں ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا ا سے کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا حقیقت ستاتا ہے مجھے پھروں بھی ا سے ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسمان دوریوں کے بعد بھی دونوں ہے وہ ہے وہ قربت ہے تو ہے
Deepti Mishra
29 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Deepti Mishra.
Similar Moods
More moods that pair well with Deepti Mishra's ghazal.







