ghazalKuch Alfaaz

سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھروں بھی بلکل سچا لگتا ہے جان بوجھ کر دھوکہ خا لگ کتنا اچھا لگتا ہے اینٹ اور پتھر مٹی گارے کے مضبوط مکانوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکی دیواروں کے پیچھے ہر گھر تکبر لگتا ہے آپ بناتا ہے پہلے پھروں اپنے آپ مٹاتا ہے دنیا کا خالق ہم کو اک ض گرا بچہ لگتا ہے ا سے نے ساری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ توڑیں سارے نازکی جھوٹے تھے پھروں بھی ہم کو ا سے کا ہونا اب بھی اچھا لگتا ہے اسے یقین ہے بے ایمانی بن حقیقت بازی جیتےگا اچھا انساں ہے پر ابھی کھلاڑی تکبر لگتا ہے

Related Ghazal

ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا

Anand Raj Singh

54 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی

Kumar Vishwas

53 likes

More from Deepti Mishra

بے حد بےچینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں پانا کھونا ہنسنا رونا کیا ہے آخر کچھ بھی نہیں اپنی اپنی قسمت سب کی اپنا اپنا حصہ ہے جسم کی خاطر لاکھوں سامان روح کی خاطر کچھ بھی نہیں ا سے کی بازی ا سے کے مہرے ا سے کی چالیں ا سے کی جیت ا سے کے آگے سارے قادر ماہر شاطر کچھ بھی نہیں ا سے کا ہونا یا نا ہونا خود ہے وہ ہے وہ اجا گر ہوتا ہے گر حقیقت ہے تو بھیتر ہی ہے ور لگ بظاہر کچھ بھی نہیں دنیا سے جو پایا ا سے نے دنیا ہی کو سونپ دیا غزلیں نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا کی ہیں کیا ہے شاعر کچھ بھی نہیں

Deepti Mishra

1 likes

غضب کش مکش ہے غضب ہے کشاکش یہ کیا بیچ ہے وہ ہے وہ ہے ہمارے تمہارے ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت کی خاطر مراسم ہیں سارے ہیں چاروں طرف ہی بے حد لوگ لیکن حقیقت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی اپنا نہیں ہے دکھاوا دکھاوا سبھی کچھ دکھاوا دکھاوے ہے وہ ہے وہ جیتے ہیں سارے کے سارے بلن گرا پہ جن کو بھی دیکھا یہ پایا سبھی آسرا پھروں رہے ہیں کسے سرپرستی کے قابل سمجھئے جیے جا رہے ہیں خود اپنے سہارے سبھی اپنی اپنی کہے جا رہے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے چینے لیے جا رہے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاطر بھی رہنے دو تھوڑا نہیں کوئی اپنا سوا اب ہمارے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی زد ہے وہ ہے وہ ہی رہنا پڑےگا خو گرا کو خو گرا ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑےگا لگ آ پہ سے باہر تو آنا سمندر سمندر کو سمجھا رہے ہیں کنارے فقط دوریوں ہے وہ ہے وہ ہی ساری کشش ہے کہ نز گرا کیوں سے بھرم ٹوٹتے ہیں فلک پہ چمکنا ہے قسمت ہماری ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے یہ کہتے ہیں ٹوٹے ستارے تم یہ جھوٹے سے رشتے یہ حرامی سے کم عقل ک ہاں تک نبھائیں ک ہاں تک نبھائیں بے حد ہوں چکا ب سے بے حد ہوں چک

Deepti Mishra

0 likes

حقیقت نہیں میرا م گر ا سے سے محبت ہے تو ہے یہ ا گر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو ہے وہ ہے وہ نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا اب زمانے کی نظر ہے وہ ہے وہ یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا ہے وہ ہے وہ نے کہ حقیقت مل جائے مجھ کو ہے وہ ہے وہ اسے غیر لگ ہوں جائے حقیقت ب سے اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا تو پروا لگ گر تو کیا غلطیاں ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا ا سے کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا حقیقت ستاتا ہے مجھے پھروں بھی ا سے ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسمان دوریوں کے بعد بھی دونوں ہے وہ ہے وہ قربت ہے تو ہے

Deepti Mishra

29 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Deepti Mishra.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Deepti Mishra's ghazal.