ghazalKuch Alfaaz

بے حد بےچینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں پانا کھونا ہنسنا رونا کیا ہے آخر کچھ بھی نہیں اپنی اپنی قسمت سب کی اپنا اپنا حصہ ہے جسم کی خاطر لاکھوں سامان روح کی خاطر کچھ بھی نہیں ا سے کی بازی ا سے کے مہرے ا سے کی چالیں ا سے کی جیت ا سے کے آگے سارے قادر ماہر شاطر کچھ بھی نہیں ا سے کا ہونا یا نا ہونا خود ہے وہ ہے وہ اجا گر ہوتا ہے گر حقیقت ہے تو بھیتر ہی ہے ور لگ بظاہر کچھ بھی نہیں دنیا سے جو پایا ا سے نے دنیا ہی کو سونپ دیا غزلیں نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا کی ہیں کیا ہے شاعر کچھ بھی نہیں

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا

Anand Raj Singh

54 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Deepti Mishra

سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھروں بھی بلکل سچا لگتا ہے جان بوجھ کر دھوکہ خا لگ کتنا اچھا لگتا ہے اینٹ اور پتھر مٹی گارے کے مضبوط مکانوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکی دیواروں کے پیچھے ہر گھر تکبر لگتا ہے آپ بناتا ہے پہلے پھروں اپنے آپ مٹاتا ہے دنیا کا خالق ہم کو اک ض گرا بچہ لگتا ہے ا سے نے ساری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ توڑیں سارے نازکی جھوٹے تھے پھروں بھی ہم کو ا سے کا ہونا اب بھی اچھا لگتا ہے اسے یقین ہے بے ایمانی بن حقیقت بازی جیتےگا اچھا انساں ہے پر ابھی کھلاڑی تکبر لگتا ہے

Deepti Mishra

3 likes

حقیقت نہیں میرا م گر ا سے سے محبت ہے تو ہے یہ ا گر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو ہے وہ ہے وہ نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا اب زمانے کی نظر ہے وہ ہے وہ یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا ہے وہ ہے وہ نے کہ حقیقت مل جائے مجھ کو ہے وہ ہے وہ اسے غیر لگ ہوں جائے حقیقت ب سے اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا تو پروا لگ گر تو کیا غلطیاں ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا ا سے کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا حقیقت ستاتا ہے مجھے پھروں بھی ا سے ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسمان دوریوں کے بعد بھی دونوں ہے وہ ہے وہ قربت ہے تو ہے

Deepti Mishra

29 likes

غضب کش مکش ہے غضب ہے کشاکش یہ کیا بیچ ہے وہ ہے وہ ہے ہمارے تمہارے ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت کی خاطر مراسم ہیں سارے ہیں چاروں طرف ہی بے حد لوگ لیکن حقیقت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی اپنا نہیں ہے دکھاوا دکھاوا سبھی کچھ دکھاوا دکھاوے ہے وہ ہے وہ جیتے ہیں سارے کے سارے بلن گرا پہ جن کو بھی دیکھا یہ پایا سبھی آسرا پھروں رہے ہیں کسے سرپرستی کے قابل سمجھئے جیے جا رہے ہیں خود اپنے سہارے سبھی اپنی اپنی کہے جا رہے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے چینے لیے جا رہے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاطر بھی رہنے دو تھوڑا نہیں کوئی اپنا سوا اب ہمارے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی زد ہے وہ ہے وہ ہی رہنا پڑےگا خو گرا کو خو گرا ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑےگا لگ آ پہ سے باہر تو آنا سمندر سمندر کو سمجھا رہے ہیں کنارے فقط دوریوں ہے وہ ہے وہ ہی ساری کشش ہے کہ نز گرا کیوں سے بھرم ٹوٹتے ہیں فلک پہ چمکنا ہے قسمت ہماری ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے یہ کہتے ہیں ٹوٹے ستارے تم یہ جھوٹے سے رشتے یہ حرامی سے کم عقل ک ہاں تک نبھائیں ک ہاں تک نبھائیں بے حد ہوں چکا ب سے بے حد ہوں چک

Deepti Mishra

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Deepti Mishra.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Deepti Mishra's ghazal.