ghazalKuch Alfaaz

اپنے ہاتھوں کی لکیروں ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گر پھول تو جوڑے ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار لگ ڈالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر بھی ہوں اندھیرا بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام میرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی ہے وہ ہے وہ کہی تو لگ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو ہے وہ ہے وہ بانٹ لگ ڈالوں کہی دامن دامن کر دیا تو نے ا گر مری حوالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے در کے کسی گھر کا ہوں سامان پیاری تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے ہے وہ ہے وہ اب سا ر ہوں یا لگ ر ہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستاتا لے مجھ کو وعدہ پھروں وعد

Related Ghazal

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Qateel Shifai

تتلیوں کا رنگ ہوں یا جھومتے بادل کا رنگ ہم نے ہر اک رنگ کو جانا تری آنچل کا رنگ تیری آنکھوں کی چمک ہے یا ستاروں کی ضیا رات کا ہے غپ اندھیرا یا تری کاجل کا رنگ دھڑکنوں کے تال پر حقیقت حال اپنے دل کا ہے چنو گوری کے تھرکتے پاؤں ہے وہ ہے وہ پائل کا رنگ پھینکنا جاناں سوچ کر لفظوں کا یہ کڑوا گلال پھیل جاتا ہے کبھی صدیوں پہ بھی اک پل کا رنگ آہ یہ رنگین موسم خون کی برسات کا چھا رہا ہے عقل پر جذبات کی ہلچل کا رنگ اب تو شبنم کا ہر اک اندھیرا ہے کنکر کی طرح ہاں اسی گلشن پہ چھایا تھا کبھی مخمل کا رنگ پھروں رہے ہیں لوگ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لیے خنجر کھلے کوچے کوچے ہے وہ ہے وہ اب آتا ہے نظر مقتل کا رنگ چار جانب ج سے کی رعنائی کے چرچے ہیں قتیل جانے کب سر و ساماں ہم ا سے آنے والی کل کا رنگ

Qateel Shifai

1 likes

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے ہے وہ ہے وہ گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تری دامن پر گرا کر بوند کو اندھیرا بنانا چاہتا ہوں تھک گیا تو ہے وہ ہے وہ کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے ہے وہ ہے وہ یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی ہے وہ ہے وہ اندھیرا روشنی کو گھر جلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی تری زانو پہ آئی موت بھی ہے وہ ہے وہ شاعرا لگ چاہتا ہوں

Qateel Shifai

6 likes

کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں لگ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گواہ بنایا ہے سمے نے اپنا ب نام عظمت کردار آؤ سچ بولیں سنا ہے سمے کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ کیا ایک بھی نہیں منصور کہی گے کیا رسن و دار آؤ سچ بولیں بجا کہ خو وفا ایک بھی حسین ہے وہ ہے وہ نہیں ک ہاں کے ہم بھی وفادار آؤ سچ بولیں جو وصف ہم ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں کریں کسی ہے وہ ہے وہ تلاش ا گر ضمیر ہے منجملہ و اسباب ماتم آؤ سچ بولیں چھپائے سے کہی سیاہ بخت ہیں داغ چہرے کے نظر ہے آئی لگ بردار آؤ سچ بولیں قتیل جن پہ صدا پتھروں کو پیار آیا کدھر گئے حقیقت گنہگار آؤ سچ بولیں

Qateel Shifai

0 likes

حقیقت بے وجہ کہ ہے وہ ہے وہ ج سے سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے خوبصورت نہیں کرتا پکڑا ہی گیا تو ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو سچا ہوں م گر اپنی وکالت نہیں کرتا کیوں بخش دیا مجھ سے گنہگار کو مولا منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کو سے رہے ہیں چوروں کو م گر کوئی ملامت نہیں کرتا ک سے قوم کے دل ہے وہ ہے وہ نہیں جذبات ابراہیم ک سے ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا دیتے ہیں اجالے مری سجدوں کی گواہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپ کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ عبادت نہیں کرتا بھولا نہیں ہے وہ ہے وہ آج بھی آداب جوانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا انسان یہ سمجھیں کہ ی ہاں دفن خدا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا دنیا ہے وہ ہے وہ قتیل ا سے سا منہافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

Qateel Shifai

8 likes

پریشاں رات ساری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ سکوت مرگ تاری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہنسو اور زار زار ڈوبتے جاؤ خلاوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ رات بھاری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آج کی شب پو پھٹتی پھٹے تک جاگنا ہوگا یہی قسمت ہماری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ تمہیں کیا آج بھی کوئی ا گر ملنے نہیں آیا یہ بازی ہم نے ہاری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ کہے جاتے ہوں رو رو کر ہمارا حال دنیا سے یہ کیسی رازداری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ

Qateel Shifai

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qateel Shifai.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qateel Shifai's ghazal.