کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں لگ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گواہ بنایا ہے سمے نے اپنا ب نام عظمت کردار آؤ سچ بولیں سنا ہے سمے کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ کیا ایک بھی نہیں منصور کہی گے کیا رسن و دار آؤ سچ بولیں بجا کہ خو وفا ایک بھی حسین ہے وہ ہے وہ نہیں ک ہاں کے ہم بھی وفادار آؤ سچ بولیں جو وصف ہم ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں کریں کسی ہے وہ ہے وہ تلاش ا گر ضمیر ہے منجملہ و اسباب ماتم آؤ سچ بولیں چھپائے سے کہی سیاہ بخت ہیں داغ چہرے کے نظر ہے آئی لگ بردار آؤ سچ بولیں قتیل جن پہ صدا پتھروں کو پیار آیا کدھر گئے حقیقت گنہگار آؤ سچ بولیں
Related Ghazal
کب پانی گرنے سے خوشبو فوٹی ہے مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے ایک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی ایک رسی ڈھیلی پڑھنے لگیں پر ٹوٹی ہے ہاتھ ملانے پر بھی ا سے پہ کھلا نہیں یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے ا سے کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو سیمنٹ کی دیوار سے کوپل فوٹی ہے ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے یوں لگتا ہے دین و دنیا چھوٹ گئے مجھ سے تری شہر کی ب سے کیا چھوٹی ہے
Tehzeeb Hafi
90 likes
تمنا پھروں مچل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ موسم بھی بدل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ مجھے غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نے زندگی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں پایا یہ غم دل سے نکل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ دنیا بھر کے جھگڑے گھر کے قصے کام کی باتیں بلا ہر ایک ٹل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ نہیں ملتے ہوں مجھ سے جاناں تو سب ہمدرد ہیں مری زما لگ مجھ سے جل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ
Javed Akhtar
48 likes
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانا کیے بغیر ا سے کے بغیر ا سے کی تمنا کیے بغیر امبار ا سے کا پردہ حرمت بنا میاں دیوار تک نہیں گری پردہ کیے بغیر یاراں حقیقت جو ہے میرا مسیحا جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بستر خیال پہ ڈیوٹی ہوں ا سے کے پا سے صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر ا سے کا ہے جو بھی کچھ ہے میرا اور ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے وعدہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر ب سے اتنی ہی عرض ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں لگ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے جاناں چھوڑ یوں لگ شہر کو صحرا کیے بغیر ان آنگنوں ہے وہ ہے وہ کتنا سکون و سرور تھا آرائش نظر تری پروا کیے بغیر یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ ہے خوش گوار بے شرط کیے بغیر گریہ کناں کی فرد ہے وہ ہے وہ اپنا نہیں ہے نام ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر آخر ہیں کون لوگ جو بخشی
Jaun Elia
36 likes
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں اتنے حصوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری حصے ہے وہ ہے وہ کچھ بچا ہی نہیں زندگی موت تیری منزل ہے دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ لگ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں زندگی اب بتا ک ہاں جائیں زہر بازار ہے وہ ہے وہ ملا ہی نہیں ج سے کے کارن فساد ہوتے ہیں ا سے کا کوئی عطا پتہ ہی نہیں کیسے اوتار کیسے پیغمبر ایسا لگتا ہے اب خدا ہی نہیں چاہے سونے کے فریم ہے وہ ہے وہ جڑ دو آئی لگ جھوٹ بولتا ہی نہیں اپنی رچناؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت زندہ ہے نور سنسر سے گیا تو ہی نہیں
Krishna Bihari Noor
37 likes
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بے حد دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں تھمتا ہے کل جو خواہش تھی آبلا ہے مجھے ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کوہکن ہوں کہ قی سے ہوں کہ فراز سب ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ ہی ملا ہے مجھے
Ahmad Faraz
33 likes
More from Qateel Shifai
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے ہے وہ ہے وہ گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تری دامن پر گرا کر بوند کو اندھیرا بنانا چاہتا ہوں تھک گیا تو ہے وہ ہے وہ کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے ہے وہ ہے وہ یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی ہے وہ ہے وہ اندھیرا روشنی کو گھر جلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی تری زانو پہ آئی موت بھی ہے وہ ہے وہ شاعرا لگ چاہتا ہوں
Qateel Shifai
6 likes
رابطہ لاکھ صحیح قافلہ سالار کے ساتھ ہم کو چلنا ہے م گر سمے کی رفتار کے ساتھ غم لگے رہتے ہیں ہر آن خوشی کے پیچھے دشمنی دھوپ کی ہے سایہ دیوار کے ساتھ ک سے طرح اپنی محبت کی ہے وہ ہے وہ تکمیل کروں چارہ زندگی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے اک لگ اک خوف بھی ہے جرات اظہار کے ساتھ دشمنی مجھ سے کیے جا م گر اپنا بن کر جان لے لے مری صیاد م گر پیار کے ساتھ دو گھڑی آؤ مل آئیں کسی تاکتے سے قتیل حضرت ذوق تو وابستہ ہیں دربار کے ساتھ
Qateel Shifai
2 likes
اپنے ہاتھوں کی لکیروں ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گر پھول تو جوڑے ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار لگ ڈالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر بھی ہوں اندھیرا بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام میرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی ہے وہ ہے وہ کہی تو لگ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو ہے وہ ہے وہ بانٹ لگ ڈالوں کہی دامن دامن کر دیا تو نے ا گر مری حوالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے در کے کسی گھر کا ہوں سامان پیاری تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے ہے وہ ہے وہ اب سا ر ہوں یا لگ ر ہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستاتا لے مجھ کو وعدہ پھروں وعد
Qateel Shifai
6 likes
تتلیوں کا رنگ ہوں یا جھومتے بادل کا رنگ ہم نے ہر اک رنگ کو جانا تری آنچل کا رنگ تیری آنکھوں کی چمک ہے یا ستاروں کی ضیا رات کا ہے غپ اندھیرا یا تری کاجل کا رنگ دھڑکنوں کے تال پر حقیقت حال اپنے دل کا ہے چنو گوری کے تھرکتے پاؤں ہے وہ ہے وہ پائل کا رنگ پھینکنا جاناں سوچ کر لفظوں کا یہ کڑوا گلال پھیل جاتا ہے کبھی صدیوں پہ بھی اک پل کا رنگ آہ یہ رنگین موسم خون کی برسات کا چھا رہا ہے عقل پر جذبات کی ہلچل کا رنگ اب تو شبنم کا ہر اک اندھیرا ہے کنکر کی طرح ہاں اسی گلشن پہ چھایا تھا کبھی مخمل کا رنگ پھروں رہے ہیں لوگ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لیے خنجر کھلے کوچے کوچے ہے وہ ہے وہ اب آتا ہے نظر مقتل کا رنگ چار جانب ج سے کی رعنائی کے چرچے ہیں قتیل جانے کب سر و ساماں ہم ا سے آنے والی کل کا رنگ
Qateel Shifai
1 likes
حقیقت بے وجہ کہ ہے وہ ہے وہ ج سے سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے خوبصورت نہیں کرتا پکڑا ہی گیا تو ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو سچا ہوں م گر اپنی وکالت نہیں کرتا کیوں بخش دیا مجھ سے گنہگار کو مولا منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کو سے رہے ہیں چوروں کو م گر کوئی ملامت نہیں کرتا ک سے قوم کے دل ہے وہ ہے وہ نہیں جذبات ابراہیم ک سے ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا دیتے ہیں اجالے مری سجدوں کی گواہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپ کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ عبادت نہیں کرتا بھولا نہیں ہے وہ ہے وہ آج بھی آداب جوانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا انسان یہ سمجھیں کہ ی ہاں دفن خدا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا دنیا ہے وہ ہے وہ قتیل ا سے سا منہافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
Qateel Shifai
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qateel Shifai.
Similar Moods
More moods that pair well with Qateel Shifai's ghazal.







