ghazalKuch Alfaaz

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بے حد دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں تھمتا ہے کل جو خواہش تھی آبلا ہے مجھے ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کوہکن ہوں کہ قی سے ہوں کہ فراز سب ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ ہی ملا ہے مجھے

Ahmad Faraz33 Likes

Related Ghazal

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Ahmad Faraz

کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں

Ahmad Faraz

6 likes

کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے

Ahmad Faraz

3 likes

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا خبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا یہ کون پھروں سے انہی راستوں میں چھوڑ گیا ابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اترا کوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا تھا یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہے یہی دھواں مری دیوار و در سے نکلا تھا میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا کہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا یہ اب جو سر ہیں خمیدہ کلاہ کی خاطر یہ عیب بھی تو ہم اہل ہنر سے نکلا تھا وہ قیس اب جسے مجنوں پکارتے ہیں فراز تیری طرح کوئی دیوانہ گھر سے نکلا تھا

Ahmad Faraz

3 likes

خاموش ہوں کیوں داد کہوں کیوں نہیں دیتے بسم اللہ ہوں تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارگرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہوں ا گر جاناں تو کب انصاف کروگے مجرم ہیں ا گر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے رہزن ہوں تو حاضر ہے متا دل و جاں بھی رہبر ہوں تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے کیا بیت گئی اب کے فراز اہل چمن پر یاران قف سے مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

Ahmad Faraz

4 likes

ا سے کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے چنو کوئی در دل پر ہوں ستادہ کب سے ایک سایہ لگ درون ہے لگ بروں ہے یوں ہے جاناں نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرہ خوں ہے یوں ہے جاناں محبت ہے وہ ہے وہ ک ہاں سود و زیاں لے آئی عشق کا نام خرد ہے لگ جنوں ہے یوں ہے اب جاناں آئی ہوں مری جان تماشا کرنے اب تو دریا ہے وہ ہے وہ تلاطم لگ سکون ہے یوں ہے ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز یہ بھی اک سلسلہ کن فیکون ہے یوں ہے

Ahmad Faraz

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.