और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا
Kushal Dauneria
54 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Ibn E Insha
हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है
Ibn E Insha
0 likes
سنتے ہیں پھروں چھپ چھپ ان کے گھر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے ہوں انشا صاحب ناحق جی کو وحشت ہے وہ ہے وہ الجھاتے ہوں دل کی بات چھپانی مشکل لیکن خوب چھپاتے ہوں بن ہے وہ ہے وہ دا لگ شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہوں بیکل بیکل رہتے ہوں پر محفل کے صاحب کردار کے ساتھ آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہوں پیت ہے وہ ہے وہ ایسے لاکھ جتن ہیں لیکن اک دن سب ناکام آپ ج ہاں ہے وہ ہے وہ رسوا ہوگے واز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ فرماتے ہوں ہم سے نام جنوں کا قائم ہم سے دشت کی آبا گرا ہم سے درد کا شکوہ کرتے ہم کو زخم دکھاتے ہوں
Ibn E Insha
0 likes
جوگ بجوگ کی باتیں جھوٹی سب جی کا بہلانا ہوں پھروں بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہوں ساری دنیا عقل کی بیری کون یہاں پر سیانا ہوں ناحق نام دھریں سب ہم کو دیوانہ دیوانہ ہوں جاناں نے تو اک ریت بنا لی سن لینا شرمانا ہوں سب کا ایک نہ ایک ہری اپنا کون ہری ہوں نگری نگری لاکھوں دوارے ہر دوارے پر لاکھ سکھی لیکن جب ہم بھول چکے ہیں دامن کا پھیلانا ہوں تیرے یہ کیا جی ہے وہ ہے وہ آئی کھینچ لیے شرما کر ہونٹ ہم کو زہر پلانے والی امرت بھی پلوانا ہوں ہم بھی جھوٹے جاناں بھی جھوٹے ایک اسی کا سچا نام جس سے دیپک جلنا سیکھا پروانہ مر جانا ہوں سیدھے من کو آن دبوچے میٹھی باتیں سندر لوگ میر نذیر کبیر اور انشا سب کا ایک گھرانا ہوں
Ibn E Insha
1 likes
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے ہم ہن سے دیے ہم چپ رہے جھمکے تھا پردہ ترا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر بے وجہ تیرا نام لے ہر بے وجہ دیوا لگ ترا کوچے کو تری چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں م گر جنگل تری پربت تری بستی تری صحرا ترا ہم اور رسم بندگی آشفتگی افتادگی احسان ہے کیا کیا ترا اے حسن بے پروا ترا دو خوشی جانے ک سے لیے پلکوں پہ آ کر ٹک گئے الطاف کی بارش تری اکرام کا دریا ترا اے بے دریغ و بے اماں ہم نے کبھی کی ہے فغاں ہم کو تری وحشت صحیح ہم کو صحیح سودا ترا ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہگزر رستہ کبھی روکا ترا دامن کبھی تھاما ترا ہاں ہاں تری صورت حسین لیکن تو ایسا بھی نہیں اک بے وجہ کے اشعار سے اشہدو ان لا الہ ہوا کیا کیا ترا بے درد سننی ہوں تو چل کہتا ہے کیا اچھی غزل عاشق ترا رسوا ترا شاعر ترا انشا ترا
Ibn E Insha
3 likes
راز ک ہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئےگا جی کا داغ اجا گر ہوں کر سورج کو شرمائے گا شہروں کو ویران کرےگا اپنی آنچ کی تیزی سے ویرانوں ہے وہ ہے وہ مست البیلے وحشی پھول کھلائے گا ہاں یہی بے وجہ گداز اور چھوؤں گا ہونٹوں پر مسکان لیے اے دل اپنے ہاتھ لگاتے پتھر کا بن جائےگا دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو ک سے سے کی حقیقت تو درد کا بانی ٹھہرا حقیقت کیا درد بتائےگا تیرا نور ظہور سلامت اک دن تجھ پر ماہ تمام چاند ن گر کا رہنے والا چاند ن گر لکھ جائےگا
Ibn E Insha
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ibn E Insha.
Similar Moods
More moods that pair well with Ibn E Insha's ghazal.







