ghazalKuch Alfaaz

راز ک ہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئےگا جی کا داغ اجا گر ہوں کر سورج کو شرمائے گا شہروں کو ویران کرےگا اپنی آنچ کی تیزی سے ویرانوں ہے وہ ہے وہ مست البیلے وحشی پھول کھلائے گا ہاں یہی بے وجہ گداز اور چھوؤں گا ہونٹوں پر مسکان لیے اے دل اپنے ہاتھ لگاتے پتھر کا بن جائےگا دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو ک سے سے کی حقیقت تو درد کا بانی ٹھہرا حقیقت کیا درد بتائےگا تیرا نور ظہور سلامت اک دن تجھ پر ماہ تمام چاند ن گر کا رہنے والا چاند ن گر لکھ جائےگا

Related Ghazal

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو

Nida Fazli

61 likes

More from Ibn E Insha

اپنے ہمراہ جو آتے ہوں ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق ہے وہ ہے وہ گھر سے پہلے چل دیے اٹھ کے سو شہر وفا کو حبیب پوچھ لینا تھا کسی خاک بسر سے پہلے عشق پہلے بھی کیا ہجر کا غم بھی دیکھا اتنے تڑ پہ ہیں لگ گھبرائے لگ ترسے پہلے جی بہلتا ہی نہیں اب کوئی ساعت کوئی پل رات ڈھلتی ہی نہیں چار پہر سے پہلے ہم کسی در پہ لگ ٹھٹکے لگ کہی دستک دی سیکڑوں در تھے مری جاں تری در سے پہلے چاند سے آنکھ ملی جی کا اجالا جاگا ہم کو سو بار ہوئی صبح سحر سے پہلے

Ibn E Insha

0 likes

رات کے خواب سنائیں ک سے کو رات کے خواب سہانے تھے دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے ض گرا وحشی الھڑ چنچل میٹھے لوگ رسیلے لوگ ہونٹ ان کے غزلوں کے مسری آنکھوں ہے وہ ہے وہ افسانے تھے وحشت کا عنوان ہماری ان ہے وہ ہے وہ سے جو نار بنی سر و ساماں تو لوگ کہی گے انشا جی دیوانے تھے یہ لڑکی تو ان گلیوں ہے وہ ہے وہ روز ہی گھوما کرتی تھی ا سے سے ان کو ملنا تھا تو ا سے کے لاکھ بہانے تھے ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے

Ibn E Insha

2 likes

और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का

Ibn E Insha

0 likes

हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है

Ibn E Insha

0 likes

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہوں ا سے بات سے ہم کو کیا زار یہ کیسے ہوں یہ کیونکر ہوں اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیا سے کے دونوں پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں جاناں بادل ہوں ہم ندیاں ہیں جاناں سا گر ہوں یہ دل ہے کہ جلتے سینے ہے وہ ہے وہ اک درد کا پھوڑا الھڑ سا نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہوں کوئی نشتر ہوں ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں جاناں چڑھتی رات کے چندرما ہم جاتے ہیں جاناں آتے ہوں پھروں میل کی صورت کیونکر ہوں اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی ہے وہ ہے وہ بنجارا بن چل نگری ہے وہ ہے وہ کوڑی ہوں ج سے چیز سے تجھ کو نسبت ہے ج سے چیز کی تجھ کو چاہت ہے حقیقت سونا ہے حقیقت ہیرا ہے حقیقت ماٹی ہوں یا کنکر ہوں اب انشا جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہوں حقیقت راتیں چاند کے ساتھ گئیں حقیقت باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہوں

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's ghazal.