हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Ibn E Insha
और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का
Ibn E Insha
0 likes
اپنے ہمراہ جو آتے ہوں ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق ہے وہ ہے وہ گھر سے پہلے چل دیے اٹھ کے سو شہر وفا کو حبیب پوچھ لینا تھا کسی خاک بسر سے پہلے عشق پہلے بھی کیا ہجر کا غم بھی دیکھا اتنے تڑ پہ ہیں لگ گھبرائے لگ ترسے پہلے جی بہلتا ہی نہیں اب کوئی ساعت کوئی پل رات ڈھلتی ہی نہیں چار پہر سے پہلے ہم کسی در پہ لگ ٹھٹکے لگ کہی دستک دی سیکڑوں در تھے مری جاں تری در سے پہلے چاند سے آنکھ ملی جی کا اجالا جاگا ہم کو سو بار ہوئی صبح سحر سے پہلے
Ibn E Insha
0 likes
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہوں ا سے بات سے ہم کو کیا زار یہ کیسے ہوں یہ کیونکر ہوں اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیا سے کے دونوں پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں جاناں بادل ہوں ہم ندیاں ہیں جاناں سا گر ہوں یہ دل ہے کہ جلتے سینے ہے وہ ہے وہ اک درد کا پھوڑا الھڑ سا نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہوں کوئی نشتر ہوں ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں جاناں چڑھتی رات کے چندرما ہم جاتے ہیں جاناں آتے ہوں پھروں میل کی صورت کیونکر ہوں اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی ہے وہ ہے وہ بنجارا بن چل نگری ہے وہ ہے وہ کوڑی ہوں ج سے چیز سے تجھ کو نسبت ہے ج سے چیز کی تجھ کو چاہت ہے حقیقت سونا ہے حقیقت ہیرا ہے حقیقت ماٹی ہوں یا کنکر ہوں اب انشا جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہوں حقیقت راتیں چاند کے ساتھ گئیں حقیقت باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہوں
Ibn E Insha
0 likes
ا سے شام حقیقت رخصت کا سماں یاد رہے گا حقیقت شہر حقیقت کوچہ حقیقت مکان یاد رہے گا حقیقت ٹی سے کہ ابھری تھی ادھر یاد رہےگی حقیقت درد کہ دل گیر تھا ی ہاں یاد رہے گا ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں حقیقت شم فسردہ کا دھواں یاد رہے گا ہاں بزم شبا لگ ہے وہ ہے وہ ہمہ شوق جو ا سے دن ہم تھے تری جانب نگراں یاد رہے گا کچھ میر کے ابیات تھے کچھ فیض کے مسری اک درد کا تھا جن ہے وہ ہے وہ بیاں یاد رہے گا آنکھوں ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی وحشت کے جلؤ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت حیرت و حسرت کا ج ہاں یاد رہے گا جاں بخش سی ا سے برگ گل تر کی تراوت حقیقت لم سے عزیز دو ج ہاں یاد رہے گا ہم بھول سکے ہیں لگ تجھے بھول سکوگے تو یاد رہے گا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یاد رہے گا
Ibn E Insha
1 likes
سنتے ہیں پھروں چھپ چھپ ان کے گھر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے ہوں انشا صاحب ناحق جی کو وحشت ہے وہ ہے وہ الجھاتے ہوں دل کی بات چھپانی مشکل لیکن خوب چھپاتے ہوں بن ہے وہ ہے وہ دا لگ شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہوں بیکل بیکل رہتے ہوں پر محفل کے صاحب کردار کے ساتھ آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہوں پیت ہے وہ ہے وہ ایسے لاکھ جتن ہیں لیکن اک دن سب ناکام آپ ج ہاں ہے وہ ہے وہ رسوا ہوگے واز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ فرماتے ہوں ہم سے نام جنوں کا قائم ہم سے دشت کی آبا گرا ہم سے درد کا شکوہ کرتے ہم کو زخم دکھاتے ہوں
Ibn E Insha
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ibn E Insha.
Similar Moods
More moods that pair well with Ibn E Insha's ghazal.







