ghazalKuch Alfaaz

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہوں ا سے بات سے ہم کو کیا زار یہ کیسے ہوں یہ کیونکر ہوں اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیا سے کے دونوں پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں جاناں بادل ہوں ہم ندیاں ہیں جاناں سا گر ہوں یہ دل ہے کہ جلتے سینے ہے وہ ہے وہ اک درد کا پھوڑا الھڑ سا نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہوں کوئی نشتر ہوں ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں جاناں چڑھتی رات کے چندرما ہم جاتے ہیں جاناں آتے ہوں پھروں میل کی صورت کیونکر ہوں اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی ہے وہ ہے وہ بنجارا بن چل نگری ہے وہ ہے وہ کوڑی ہوں ج سے چیز سے تجھ کو نسبت ہے ج سے چیز کی تجھ کو چاہت ہے حقیقت سونا ہے حقیقت ہیرا ہے حقیقت ماٹی ہوں یا کنکر ہوں اب انشا جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہوں حقیقت راتیں چاند کے ساتھ گئیں حقیقت باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہوں

Related Ghazal

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Ibn E Insha

और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का

Ibn E Insha

0 likes

رات کے خواب سنائیں ک سے کو رات کے خواب سہانے تھے دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے ض گرا وحشی الھڑ چنچل میٹھے لوگ رسیلے لوگ ہونٹ ان کے غزلوں کے مسری آنکھوں ہے وہ ہے وہ افسانے تھے وحشت کا عنوان ہماری ان ہے وہ ہے وہ سے جو نار بنی سر و ساماں تو لوگ کہی گے انشا جی دیوانے تھے یہ لڑکی تو ان گلیوں ہے وہ ہے وہ روز ہی گھوما کرتی تھی ا سے سے ان کو ملنا تھا تو ا سے کے لاکھ بہانے تھے ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے

Ibn E Insha

2 likes

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشا جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینا پلانا عین گناہ ہے جی کا لگانا عین ہوس آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ اے سخیوں اے خوش نظروں یک گونا کرم خیرات کروں نارا زناں کچھ لوگ پھریں ہیں صبح سے شہر نگار کے بیچ خار و خس و خاشاک تو جانیں ایک تجھی کو خبر نہ ملے اے گل خوبی ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ منت قاصد کون اٹھائے شکوی درباں کون کرے نامہ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو کافی کے بیچ

Ibn E Insha

0 likes

جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں لیلیٰ تو اے قیس ملےگی دل کے دولت خانے میں جنم جنم کے ساتوں دکھ ہیں اس کے ماتھے پر تحریر اپنا آپ مٹانا ہوگا یہ تحریر مٹانے میں محفل میں اس شخص کے ہوتے کیف کہاں سے آتا ہے پیمانے سے آنکھوں میں یا آنکھوں سے پیمانے میں کس کا کس کا حال سنایا تو نے اے افسانہ گو ہم نے ایک تجھی کو ڈھونڈا اس سارے افسانے میں اس بستی میں اتنے گھر تھے اتنے چہرے اتنے لوگ اور کسی کے در پہ نہ پہنچا ایسا ہوش دیوانے میں

Ibn E Insha

3 likes

اپنے ہمراہ جو آتے ہوں ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق ہے وہ ہے وہ گھر سے پہلے چل دیے اٹھ کے سو شہر وفا کو حبیب پوچھ لینا تھا کسی خاک بسر سے پہلے عشق پہلے بھی کیا ہجر کا غم بھی دیکھا اتنے تڑ پہ ہیں لگ گھبرائے لگ ترسے پہلے جی بہلتا ہی نہیں اب کوئی ساعت کوئی پل رات ڈھلتی ہی نہیں چار پہر سے پہلے ہم کسی در پہ لگ ٹھٹکے لگ کہی دستک دی سیکڑوں در تھے مری جاں تری در سے پہلے چاند سے آنکھ ملی جی کا اجالا جاگا ہم کو سو بار ہوئی صبح سحر سے پہلے

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's ghazal.