دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشا جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینا پلانا عین گناہ ہے جی کا لگانا عین ہوس آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ اے سخیوں اے خوش نظروں یک گونا کرم خیرات کروں نارا زناں کچھ لوگ پھریں ہیں صبح سے شہر نگار کے بیچ خار و خس و خاشاک تو جانیں ایک تجھی کو خبر نہ ملے اے گل خوبی ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ منت قاصد کون اٹھائے شکوی درباں کون کرے نامہ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو کافی کے بیچ
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Ibn E Insha
और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का
Ibn E Insha
0 likes
हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है
Ibn E Insha
0 likes
رات کے خواب سنائیں ک سے کو رات کے خواب سہانے تھے دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے ض گرا وحشی الھڑ چنچل میٹھے لوگ رسیلے لوگ ہونٹ ان کے غزلوں کے مسری آنکھوں ہے وہ ہے وہ افسانے تھے وحشت کا عنوان ہماری ان ہے وہ ہے وہ سے جو نار بنی سر و ساماں تو لوگ کہی گے انشا جی دیوانے تھے یہ لڑکی تو ان گلیوں ہے وہ ہے وہ روز ہی گھوما کرتی تھی ا سے سے ان کو ملنا تھا تو ا سے کے لاکھ بہانے تھے ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے
Ibn E Insha
2 likes
جوگ بجوگ کی باتیں جھوٹی سب جی کا بہلانا ہوں پھروں بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہوں ساری دنیا عقل کی بیری کون یہاں پر سیانا ہوں ناحق نام دھریں سب ہم کو دیوانہ دیوانہ ہوں جاناں نے تو اک ریت بنا لی سن لینا شرمانا ہوں سب کا ایک نہ ایک ہری اپنا کون ہری ہوں نگری نگری لاکھوں دوارے ہر دوارے پر لاکھ سکھی لیکن جب ہم بھول چکے ہیں دامن کا پھیلانا ہوں تیرے یہ کیا جی ہے وہ ہے وہ آئی کھینچ لیے شرما کر ہونٹ ہم کو زہر پلانے والی امرت بھی پلوانا ہوں ہم بھی جھوٹے جاناں بھی جھوٹے ایک اسی کا سچا نام جس سے دیپک جلنا سیکھا پروانہ مر جانا ہوں سیدھے من کو آن دبوچے میٹھی باتیں سندر لوگ میر نذیر کبیر اور انشا سب کا ایک گھرانا ہوں
Ibn E Insha
1 likes
ا سے شام حقیقت رخصت کا سماں یاد رہے گا حقیقت شہر حقیقت کوچہ حقیقت مکان یاد رہے گا حقیقت ٹی سے کہ ابھری تھی ادھر یاد رہےگی حقیقت درد کہ دل گیر تھا ی ہاں یاد رہے گا ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں حقیقت شم فسردہ کا دھواں یاد رہے گا ہاں بزم شبا لگ ہے وہ ہے وہ ہمہ شوق جو ا سے دن ہم تھے تری جانب نگراں یاد رہے گا کچھ میر کے ابیات تھے کچھ فیض کے مسری اک درد کا تھا جن ہے وہ ہے وہ بیاں یاد رہے گا آنکھوں ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی وحشت کے جلؤ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت حیرت و حسرت کا ج ہاں یاد رہے گا جاں بخش سی ا سے برگ گل تر کی تراوت حقیقت لم سے عزیز دو ج ہاں یاد رہے گا ہم بھول سکے ہیں لگ تجھے بھول سکوگے تو یاد رہے گا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یاد رہے گا
Ibn E Insha
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ibn E Insha.
Similar Moods
More moods that pair well with Ibn E Insha's ghazal.







