ghazalKuch Alfaaz

ا سے شام حقیقت رخصت کا سماں یاد رہے گا حقیقت شہر حقیقت کوچہ حقیقت مکان یاد رہے گا حقیقت ٹی سے کہ ابھری تھی ادھر یاد رہےگی حقیقت درد کہ دل گیر تھا ی ہاں یاد رہے گا ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں حقیقت شم فسردہ کا دھواں یاد رہے گا ہاں بزم شبا لگ ہے وہ ہے وہ ہمہ شوق جو ا سے دن ہم تھے تری جانب نگراں یاد رہے گا کچھ میر کے ابیات تھے کچھ فیض کے مسری اک درد کا تھا جن ہے وہ ہے وہ بیاں یاد رہے گا آنکھوں ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی وحشت کے جلؤ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت حیرت و حسرت کا ج ہاں یاد رہے گا جاں بخش سی ا سے برگ گل تر کی تراوت حقیقت لم سے عزیز دو ج ہاں یاد رہے گا ہم بھول سکے ہیں لگ تجھے بھول سکوگے تو یاد رہے گا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یاد رہے گا

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے

Azhar Iqbal

61 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

More from Ibn E Insha

سنتے ہیں پھروں چھپ چھپ ان کے گھر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے ہوں انشا صاحب ناحق جی کو وحشت ہے وہ ہے وہ الجھاتے ہوں دل کی بات چھپانی مشکل لیکن خوب چھپاتے ہوں بن ہے وہ ہے وہ دا لگ شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہوں بیکل بیکل رہتے ہوں پر محفل کے صاحب کردار کے ساتھ آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہوں پیت ہے وہ ہے وہ ایسے لاکھ جتن ہیں لیکن اک دن سب ناکام آپ ج ہاں ہے وہ ہے وہ رسوا ہوگے واز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ فرماتے ہوں ہم سے نام جنوں کا قائم ہم سے دشت کی آبا گرا ہم سے درد کا شکوہ کرتے ہم کو زخم دکھاتے ہوں

Ibn E Insha

0 likes

और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का

Ibn E Insha

0 likes

شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ ج ہاں کے دیکھے ہیں بےکلی ا سے دودمان نہیں ہوتی نالہ یوں نارساء نہیں رہتا آہ یوں نبھے گی نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی اجازت نامہ بر نہیں ہوتی دوستو عشق ہے غلطیاں لیکن کیا غلطیاں درگزر نہیں ہوتی رات آ کر گزر بھی جاتی ہے اک ہماری سحر نہیں ہوتی بے قراری صحیح نہیں جاتی زندگی بڑھوا نہیں ہوتی ایک دن دیکھنے کو آ جاتے یہ ہوں سے عمر بھر نہیں ہوتی حسن سب کو خدا نہیں دیتا ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

Ibn E Insha

1 likes

جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں لیلیٰ تو اے قیس ملےگی دل کے دولت خانے میں جنم جنم کے ساتوں دکھ ہیں اس کے ماتھے پر تحریر اپنا آپ مٹانا ہوگا یہ تحریر مٹانے میں محفل میں اس شخص کے ہوتے کیف کہاں سے آتا ہے پیمانے سے آنکھوں میں یا آنکھوں سے پیمانے میں کس کا کس کا حال سنایا تو نے اے افسانہ گو ہم نے ایک تجھی کو ڈھونڈا اس سارے افسانے میں اس بستی میں اتنے گھر تھے اتنے چہرے اتنے لوگ اور کسی کے در پہ نہ پہنچا ایسا ہوش دیوانے میں

Ibn E Insha

3 likes

हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's ghazal.