ghazalKuch Alfaaz

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے مشعلیں لے کے تمہارے غم کی ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے اب کہاں ایسی طبیعت والے چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے ترک احساس محبت مشکل ہاں مگر اہل وفا کرتے تھے بکھری بکھری ہوئی زلفوں والے قافلے روک لیا کرتے تھے آج گلشن میں شگوفے ساغرؔ شکوۂ باد صبا کرتے تھے

Related Ghazal

اک ہنر ہے جو کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے دل سے اتر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سن رہا ہوں کہ گھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ہے ب سے اپنا سامنا در سانحے ہر کسی سے گزر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ناز و ادا وہی غمزے سر بسر آپ پر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب الزام ہوں زمانے کا کہ ی ہاں سب کے سر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا جب کہ واں عمر بھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے جاناں ملا ہوں ج سے دن سے بے طرح خود سے ڈر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئے جاناں ہے وہ ہے وہ سوگ برپا ہے کہ اچانک سدھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Jaun Elia

51 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

ب سے اک نگاہ ناز کو دراڑیں ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالانکہ شہر شہر ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدت کے بعد آئی لگ دیکھا تو رو پڑا ک سے بہترین دوست سے روٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنا جو رین کوٹ تو بارش نہیں ہوئی لوٹا جو گھر تو شرم سے بھیگا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے بھی دی گئی تھی مجھے بزم کی دعا پہلے بھی ا سے دعا پہ اکیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی عجیب بات ہے نا تو ہی آ گیا تو تری ہی انتظار ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ

Zubair Ali Tabish

47 likes

مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے

Ahmad Abdullah

50 likes

More from Saghar Siddiqui

ہے وہ ہے وہ تلخی حیات سے نزدیک تر کے پی گیا تو غم کی سیاہ رات سے نزدیک تر کے پی گیا تو اتنی دقیق اجازت کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے نزدیک تر کے پی گیا تو چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی شکر گزاری کچھ ایسے حادثات سے نزدیک تر کے پی گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنی ذات سے نزدیک تر کے پی گیا تو دنیا حادثات ہے اک دردناک گیت دنیا حادثات سے نزدیک تر کے پی گیا تو کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ا سے کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے نزدیک تر کے پی گیا تو میک اپ حقیقت کہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور ان کی گزارشات سے نزدیک تر کے پی گیا تو

Saghar Siddiqui

3 likes

اے دل بے قرار چپ ہوں جا جا چکی ہے بہار چپ ہوں جا اب لگ آئیں گے روٹھنے والے دیدہ خوشی بار چپ ہوں جا جا چکا کارواں لالہ و گل اڑ رہا ہے غمدیدہ چپ ہوں جا چھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو روٹھ جاتے ہیں یار چپ ہوں جا ہم فقیروں کا ا سے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہے غم گسار چپ ہوں جا حادثوں کی لگ آنکھ کھل جائے حسرت سوگوار چپ ہوں جا گیت کی قابو سے بھی اے میک اپ ٹوٹ جاتے ہیں تار چپ ہوں جا

Saghar Siddiqui

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Saghar Siddiqui.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Saghar Siddiqui's ghazal.