ghazalKuch Alfaaz

bada viran mausam hai kabhi milne chale aao har ik janib tira ghham hai kabhi milne chale aao hamara dil kisi gahri judai ke bhanvar men hai hamari aankh bhi nam hai kabhi milne chale aao mire hamrah garche duur tak logon ki raunaq hai magar jaise koi kam hai kabhi milne chale aao tumhen to ilm hai mere dil-e-vahshi ke zakhmon ko tumhara vasl marham hai kabhi milne chale aao andheri raat ki gahri khamoshi aur tanha dil diye ki lau bhi maddham hai kabhi milne chale aao tumhare ruuth ke jaane se ham ko aisa lagta hai muqaddar ham se barham hai kabhi milne chale aao havaon aur phulon ki nai khushbu batati hai tire aane ka mausam hai kabhi milne chale aao bada viran mausam hai kabhi milne chale aao har ek jaanib tera gham hai kabhi milne chale aao hamara dil kisi gahri judai ke bhanwar mein hai hamari aankh bhi nam hai kabhi milne chale aao mere hamrah garche dur tak logon ki raunaq hai magar jaise koi kam hai kabhi milne chale aao tumhein to ilm hai mere dil-e-wahshi ke zakhmon ko tumhaara wasl marham hai kabhi milne chale aao andheri raat ki gahri khamoshi aur tanha dil diye ki lau bhi maddham hai kabhi milne chale aao tumhaare ruth ke jaane se hum ko aisa lagta hai muqaddar hum se barham hai kabhi milne chale aao hawaon aur phulon ki nai khushbu batati hai tere aane ka mausam hai kabhi milne chale aao

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Adeem Hashmi

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے حقیقت باطن ہے مجھے جھوٹے در و دیوار شیوہ ارباب فن نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دریا ہوں م گر بہتا ہوں ہے وہ ہے وہ کوہسار کی جانب مجھے دنیا کی پستی ہے وہ ہے وہ اتر جانا نہیں آتا زر و مال و جواہر لے بھی اور ٹھکرا بھی سکتا ہوں کوئی دل پیش کرتا ہوں تو ٹھکرانا نہیں آتا پرندہ جانب دانا ہمیشہ اڑ کے آتا ہے پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دا لگ نہیں آتا ا گر صحرا ہے وہ ہے وہ ہیں تو آپ خود آئی ہیں صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے گھر تو چل کر کوئی ویرا لگ نہیں آتا ہوا ہے جو صدا ا سے کو نصیبوں کا لکھا سمجھا عدیم اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

Adeem Hashmi

2 likes

تری لیے چلے تھے ہم تری لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تری بھی دن گزر گئے مری بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں جانے حقیقت تو کدھر گیا تو جانے حقیقت ہم کدھر گئے را ہوں ہے وہ ہے وہ ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں حقیقت بھی لگ اپنے گھر گیا تو ہم بھی لگ اپنے گھر گئے سمے ہی جدائی کا اتنا طویل ہوں گیا تو دل ہے وہ ہے وہ تری وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیا سے کا صحرا امڈ امڈ پڑے دریا بفر بفر گئے حقیقت بھی غبار خواب تھا ہم بھی غبار خواب تھے حقیقت بھی کہی بکھر گیا تو ہم بھی کہی بکھر گئے کوئی کنار آبجو بیٹھا ہوا ہے سر نگوں کشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے آج بھی انتظار کا سمے حنوط ہوں گیا تو ایسا لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے بارش وصل حقیقت ہوئی سارا غمدیدہ دھل گیا تو حقیقت بھی نکھر نکھر گیا تو ہم بھی نکھر نکھر گئے آب محیط عشق کا بہر عجیب بہر ہے تری تو غرق ہوں گئے ڈوبے

Adeem Hashmi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Adeem Hashmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Adeem Hashmi's ghazal.