ghazalKuch Alfaaz

bade tahammul se rafta rafta nikalna hai bacha hai jo tujh men mera hissa nikalna hai ye ruuh barson se dafn hai tum madad karoge badan ke malbe se is ko zinda nikalna hai nazar men rakhna kahin koi ghham-shanas gahak mujhe sukhan bechna hai kharcha nikalna hai nikal laaya huun ek pinjre se ik parinda ab is parinde ke dil se pinjra nikalna hai ye tiis barson se kuchh baras pichhe chal rahi hai mujhe ghadi ka kharab purza nikalna hai khayal hai khandan ko ittilaa de duun jo kat gaya us shajar ka shajara nikalna hai main ek kirdar se bada tang huun qalamkar mujhe kahani men daal ghhussa nikalna hai bade tahammul se rafta rafta nikalna hai bacha hai jo tujh mein mera hissa nikalna hai ye ruh barson se dafn hai tum madad karoge badan ke malbe se is ko zinda nikalna hai nazar mein rakhna kahin koi gham-shanas gahak mujhe sukhan bechna hai kharcha nikalna hai nikal laya hun ek pinjre se ek parinda ab is parinde ke dil se pinjra nikalna hai ye tis barson se kuchh baras pichhe chal rahi hai mujhe ghadi ka kharab purza nikalna hai khayal hai khandan ko ittilaa de dun jo kat gaya us shajar ka shajara nikalna hai main ek kirdar se bada tang hun qalamkar mujhe kahani mein dal ghussa nikalna hai

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Umair Najmi

ہے وہ ہے وہ نے جو راہ لی دشوار زیادہ نکلی مری اندازے سے ہر بار زیادہ نکلی کوئی روزن لگ جھروکا لگ کوئی دروازہ مری تعمیر ہے وہ ہے وہ دیوار زیادہ نکلی یہ مری موت کے اسباب ہے وہ ہے وہ لکھا ہوا ہے خون ہے وہ ہے وہ عشق کی مقدار زیادہ نکلی کتنی جل گرا دیا گھر والوں کو پھل اور سایہ مجھ سے تو پیڑ کی رفتار زیادہ نکلی

Umair Najmi

10 likes

اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا

Umair Najmi

20 likes

ہے وہ ہے وہ برش چھوڑ چکا آخری تصویر کے بعد مجھ سے کچھ بن نہیں پایا تری تصویر کے بعد مشترک دوست بھی چھوٹے ہیں تجھے چھوڑنے پر زبان دیوار ہٹانی پڑی تصویر کے بعد یار تصویر ہے وہ ہے وہ تنہا ہوں م گر لوگ ملے کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے بعد دوسرا عشق میسر ہے م گر کرتا نہیں کون دیکھےگا پرانی نئی تصویر کے بعد بھیج دیتا ہوں م گر پہلے بتا دوں تجھ کو مجھ سے ملتا نہیں کوئی مری تصویر کے بعد خشک دیوار ہے وہ ہے وہ سیلن کا سبب کیا ہوگا ایک عدد زنگ لگی کیل تھی تصویر کے بعد

Umair Najmi

28 likes

جاناں اس کا خرابے ہے وہ ہے وہ چار چھے دن ٹہل گئی ہوں سو این ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوں تمام دن اس کا دعا ہے وہ ہے وہ کٹتا ہے کچھ دنوں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاؤں کمرے ہے وہ ہے وہ تو اداسی نکل گئی ہوں کسی کے آنے پہ ایسے ہلچل ہوئی ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاموش جنگل ہے وہ ہے وہ چنو خیروخواہ چل گئی ہوں یہ نہ ہوں گر ہے وہ ہے وہ ہلوں تو گرنے لگے برادہ دکھوں کی دیمک بدن کی لکڑی نگل گئی ہوں یہ چھوٹے چھوٹے کئی حوادث جو ہوں رہے ہیں کسی کے سر سے بڑی مصیبت نہ ٹل گئی ہوں ہمارا ملبا ہمارے قدموں ہے وہ ہے وہ آ گرا ہے پلیٹ ہے وہ ہے وہ چنو موم بتی پگھل گئی ہوں

Umair Najmi

10 likes

اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا

Umair Najmi

10 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Umair Najmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Umair Najmi's ghazal.