بے حد رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی بقول کو آیا تھا پیار ہم پر بھی یہ بےسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی بٹھا چکا ہے زما لگ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی عدو کو بھی جو بنایا ہے جاناں نے محرم راز تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی غلطیاں کسی کی ہوں لیکن کھلی جو ان کی زبان تو ہوں ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی ہم ایسے رند م گر یہ زما لگ ہے حقیقت غضب کہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی آتش الفت جلا چکی یاد خدا حرام ہوں گئی خوف کی نار ہم پر بھی
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں
Umair Najmi
59 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Akbar Allahabadi
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئی یہ حیرت سرا بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بسات قوت ادراک کو کیا بڑھے اس کا بزم ہے وہ ہے وہ آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا تو خود ہوئی قید اس کا کو سینے سے لگانے کے لیے جب کہا ہے وہ ہے وہ نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا یاد پھروں مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے دیدہ بازی حقیقت کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں پینے کے لیے اور حقیقت ہیں خانے کے لیے اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین جوش دل کافی ہے یاد خدا تان اڑانے کے لیے
Akbar Allahabadi
2 likes
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ لگ ہوں معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ آرزا اچھا نہیں ہوتا تشبیہ تری چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ م گر اتنا نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نزع ہے وہ ہے وہ ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوں جاتے ہیں بدنام حقیقت قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
Akbar Allahabadi
1 likes
سان سے لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں یہ لگ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں بہر ہستی ہے وہ ہے وہ ہوں مثال حباب مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں اتنی آزا گرا بھی غنیمت ہے سان سے لیتا ہوں بات کرتا ہوں شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں یہ بڑا عیب مجھ ہے وہ ہے وہ ہے یاد خدا دل ہے وہ ہے وہ جو آئی کہ گزرتا ہوں
Akbar Allahabadi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







