ghazalKuch Alfaaz

بے حد صحیح غم گیتی شراب کم کیا ہے غلام ساقی کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے رقیب پر ہے ا گر لطف تو ستم کیا ہے سخن ہے وہ ہے وہ خامہ غالب کی آتش افشانی یقین ہے ہم کو بھی لیکن اب ا سے ہے وہ ہے وہ دم کیا ہے کٹے تو شب کہی کاٹے تو سانپ کہلاوے کوئی بتاؤ کہ حقیقت زلف خم بہ خم کیا ہے لکھا کرے کوئی احکام تالا مولود کسے خبر ہے کہ واں جنبش کیا ہے لگ حشر و نشر کا قائل لگ کیش و ملت کا خدا کے واسطے ایسے کی پھروں قسم کیا ہے حقیقت داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدم وگر لگ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے

Related Ghazal

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Mirza Ghalib

جھمکے تھی یہ شکل تجلی کو نور کی قسمت کھلی تری قد و رکھ سے ظہور کی اک خوں چکاں کفن ہے وہ ہے وہ کروڑوں حرف حکایات ہیں پڑتی ہے آنکھ تری شہیدوں پہ حور کی واعظ لگ جاناں پ یوں لگ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی لڑتا ہے مجھ سے حشر ہے وہ ہے وہ قاتل کہ کیوں اٹھا گویا ابھی سنی نہیں آواز شوق دید کی آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی گو واں نہیں بچیں واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب آؤ لگ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی گرمی صحیح چھوؤں گا ہے وہ ہے وہ لیکن لگ ا سے دودمان کی ج سے سے بات ا سے نے شکایت ضرور کی تاکتے گر ا سے سفر ہے وہ ہے وہ مجھے ساتھ لے چلیں حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

Mirza Ghalib

0 likes

ذکر میرا بب گرا بھی اسے جھمکے نہیں غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں وعدہ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق مژدہ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں شاہد ہستی مطلق کی کمر تراش ہے عالم لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھمکے نہیں اللہ ری اپنا بھی حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے دریا لیکن ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں حسرت اے ذوق خرابی کہ حقیقت طاقت لگ رہی عشق پر عربدہ کی گوں زیر مزار تن رنجور نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کہتا ہوں کہ ہم لیںگے خوشگوار ہے وہ ہے وہ تمہیں ک سے رعونت سے حقیقت کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں ظلم کر ظلم ا گر لطف دریغ آتا ہوں تو ت غافل ہے وہ ہے وہ کسی رنگ سے معذور نہیں صاف در گرا کش پیما لگ جم ہیں ہم لوگ وائے حقیقت بادہ کہ افشردہ انگور نہیں ہوں ظہوری کے مقابل ہے وہ ہے وہ خفائی تاکتے مری دعوی پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

Mirza Ghalib

2 likes

غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی

Mirza Ghalib

0 likes

ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن غرہ اوج بنا نہ عالم نہ امکان نہ ہو اس کا کا بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لاوےگی ہماری فاقہ مستی ایک دن نغمہ ہا غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے بے صدا ہو جائےگا یہ ساز ہستی ایک دن دھول دھپا اس کا سراپا ناز کا شیوہ نہیں ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

Mirza Ghalib

1 likes

ا سے بزم ہے وہ ہے وہ مجھے نہیں بنتی حیا کیے بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور جاؤں در سے تری بن صدا کیے رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے کنج طبیعت ہی گزرتی ہے ہوں گرچہ خیرو حضرت بھی کل کہی گے کہ ہم کیا کیا کیے مقدور ہوں تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے حقیقت گنج ہا گراں مایہ کیا کیے ک سے روز تہمتیں لگ تراشا کیے عدو ک سے دن ہمارے سر پہ لگ آرے چلا کیے صحبت ہے وہ ہے وہ غیر کی لگ پڑی ہوں کہی یہ پربھاکر دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے ضد کی ہے اور بات م گر پربھاکر بری نہیں بھولے سے ا سے نے سیکڑوں نازکی وفا کیے تاکتے تمہیں کہو کہ ملےگا جواب کیا مانا کہ جاناں کہا کیے اور حقیقت سنا کیے

Mirza Ghalib

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.