ghazalKuch Alfaaz

جھمکے تھی یہ شکل تجلی کو نور کی قسمت کھلی تری قد و رکھ سے ظہور کی اک خوں چکاں کفن ہے وہ ہے وہ کروڑوں حرف حکایات ہیں پڑتی ہے آنکھ تری شہیدوں پہ حور کی واعظ لگ جاناں پ یوں لگ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی لڑتا ہے مجھ سے حشر ہے وہ ہے وہ قاتل کہ کیوں اٹھا گویا ابھی سنی نہیں آواز شوق دید کی آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی گو واں نہیں بچیں واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب آؤ لگ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی گرمی صحیح چھوؤں گا ہے وہ ہے وہ لیکن لگ ا سے دودمان کی ج سے سے بات ا سے نے شکایت ضرور کی تاکتے گر ا سے سفر ہے وہ ہے وہ مجھے ساتھ لے چلیں حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

Related Ghazal

بادشا ہوں کو سکھایا ہے قلندر ہونا آپ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے جاناں نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا صرف بچوں کی محبت نے قدم روک لیے ور لگ آسان تھا مری لیے بے گھر ہونا ہم کو معلوم ہے شہرت کی بلن گرا ہم نے قبر کی مٹی کا دیکھا ہے برابر ہونا ا سے کو قسمت کی خرابی ہی کہا جائےگا آپ کا شہر ہے وہ ہے وہ آنا میرا باہر ہونا سوچتا ہوں تو کہانی کی طرح لگتا ہے راستے سے میرا تکنا ترا چھت پر ہونا مجھ کو قسمت ہی پہنچنے نہیں دیتی ور لگ ایک اعزاز ہے ا سے در کا گدا گر ہونا صرف پوچھوں بتانے کے لیے زندہ ہوں اب میرا گھر ہے وہ ہے وہ بھی ہونا ہے کیلنڈر ہونا

Munawwar Rana

12 likes

اچھا تمہارے شہر کا جھمکے ہوں گیا تو ج سے کو گلے لگا لیا حقیقت دور ہوں گیا تو کاغذ ہے وہ ہے وہ دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوا لگ بے پڑھے لکھے مشہور ہوں گیا تو محلوں ہے وہ ہے وہ ہم نے کتنے ستارے تم سجا دیے لیکن ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے چاند بے حد دور ہوں گیا تو تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی انا آئی لگ بات کرنے پہ مجبور ہوں گیا تو دا گرا سے کہنا ا سے کی کہانی سنائیے جو بادشاہ عشق ہے وہ ہے وہ مزدور ہوں گیا تو حساب آرز پوچھ رہی ہے غضب سوال حقیقت پا سے آ گیا تو کہ بے حد دور ہوں گیا تو کچھ پھل ضرور آئیں گے روٹی کے پیڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن میرا مطالبہ جھمکے ہوں گیا تو

Bashir Badr

11 likes

لگ کسی کی آنکھ کا نور ہوں لگ کسی کے دل کا قرار ہوں کسی کام ہے وہ ہے وہ جو لگ آ سکے ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک مشت غبار ہوں لگ دوا درد ج گر ہوں ہے وہ ہے وہ لگ کسی کی میٹھی نظر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ادھر ہوں ہے وہ ہے وہ لگ ادھر ہوں ہے وہ ہے وہ لگ شکیب ہوں لگ قرار ہوں میرا سمے مجھ سے بچھڑ گیا تو میرا رنگ روپ بگڑ گیا تو جو اڑائے سے باغ اجڑ گیا تو ہے وہ ہے وہ اسی کی فصل بہار ہوں پئے اظہار غزلوں فاتحہ کوئی آئی کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں کوئی آ کے شمع جلائے کیوں ہے وہ ہے وہ حقیقت بےکسی کا مزار ہوں لگ ہے وہ ہے وہ لاگ ہوں لگ لگاﺅ ہوں لگ سہاگ ہوں لگ صبھاو ہوں جو بگڑ گیا تو حقیقت بناو ہوں جو نہیں رہا حقیقت سنگار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں ہوں نغمہ جاں افزا مجھے سن کے کوئی کرےگا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑے بیروگ کی ہوں صدا ہے وہ ہے وہ بڑے دکھی کی پکار ہوں لگ ہے وہ ہے وہ مضطر ان کا حبیب ہوں لگ ہے وہ ہے وہ مضطر ان کا رقیب ہوں جو بگڑ گیا تو حقیقت نصیب ہوں جو اجڑ گیا تو حقیقت دیار ہوں

Muztar Khairabadi

18 likes

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا جس طرح خاموشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو خدا ہی جانے رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار کوئی الزام مری سر نہیں رہنے والا میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں جواد جب مری ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

Jawwad Sheikh

15 likes

تمہارے نام پر ہے وہ ہے وہ نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی نظر شعلوں پہ رکھی تھی زبان پتھر پہ رکھی تھی ہمارے خواب تو شہروں کی سڑکوں پر بھٹکتے تھے تمہاری یاد تھی جو رات بھر بستر پہ رکھی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا عزم لے کر منزلوں کی سمت نکلا تھا مشقت ہاتھ پہ رکھی تھی قسمت گھر پہ رکھی تھی انہی سانسوں کے چکر نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دن د کھائے تھے ہمارے پاؤں کی مٹی ہمارے سر پہ رکھی تھی سحر تک جاناں جو آ جاتے تو منظر دیکھ سکتے تھے دیے پلکوں پہ رکھے تھے شکن بستر پہ رکھی تھی

Rahat Indori

7 likes

More from Mirza Ghalib

दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया

Mirza Ghalib

0 likes

غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی

Mirza Ghalib

0 likes

رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے ا سے سال کے حساب کو برق آفتاب ہے مینا مے ہے سرو نشاط بہار سے بال تدررو جلوہ موج شراب ہے اڑھائی ہوا ہے پاشنا پا ثبات کا نے بھاگنے کی گوں زیر مزار لگ اقامت کی تاب ہے جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے نہظارہ کیا حریف ہوں ا سے برق حسن کا جوش بہار رکے کو ج سے کے نقاب ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تری رکھ سے نگہ کامیاب ہے گزرا سرسری مسرت پیغام یار سے شکایت پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض جو دا لگ دام ہے وہ ہے وہ ہے سو خوشی کباب ہے ب چشم دل لگ کر ہوں سے سیر لالہ زار زبان یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے

Mirza Ghalib

1 likes

رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

Mirza Ghalib

0 likes

महरम नहीं है तू ही नवा-हा-ए-राज़ का याँ वर्ना जो हिजाब है पर्दा है साज़ का रंग-ए-शिकस्ता सुब्ह-ए-बहार-ए-नज़ारा है ये वक़्त है शगुफ़्तन-ए-गुल-हा-ए-नाज़ का तू और सू-ए-ग़ैर नज़र-हा-ए-तेज़ तेज़ मैं और दुख तिरी मिज़ा-हा-ए-दराज़ का सर्फ़ा है ज़ब्त-ए-आह में मेरा वगर्ना में तोमा हूँ एक ही नफ़स-ए-जाँ-गुदाज़ का हैं बस-कि जोश-ए-बादास शीशे उछल रहे हर गोशा-ए-बिसात है सर शीशा-बाज़ का काविश का दिल करे है तक़ाज़ा कि है हुनूज़ नाख़ुन पे क़र्ज़ इस गिरह-ए-नीम-बाज़ का ताराज-ए-काविश-ए-ग़म-ए-हिज्राँ हुआ 'असद' सीना कि था दफ़ीना गुहर-हा-ए-राज़ का

Mirza Ghalib

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.