ghazalKuch Alfaaz

بادشا ہوں کو سکھایا ہے قلندر ہونا آپ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے جاناں نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا صرف بچوں کی محبت نے قدم روک لیے ور لگ آسان تھا مری لیے بے گھر ہونا ہم کو معلوم ہے شہرت کی بلن گرا ہم نے قبر کی مٹی کا دیکھا ہے برابر ہونا ا سے کو قسمت کی خرابی ہی کہا جائےگا آپ کا شہر ہے وہ ہے وہ آنا میرا باہر ہونا سوچتا ہوں تو کہانی کی طرح لگتا ہے راستے سے میرا تکنا ترا چھت پر ہونا مجھ کو قسمت ہی پہنچنے نہیں دیتی ور لگ ایک اعزاز ہے ا سے در کا گدا گر ہونا صرف پوچھوں بتانے کے لیے زندہ ہوں اب میرا گھر ہے وہ ہے وہ بھی ہونا ہے کیلنڈر ہونا

Related Ghazal

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

سر ہی اب پھوڑئیے ندامت ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند آنے لگی ہے فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں دلیلیں تری خلاف م گر سوچتا ہوں تری حمایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ روح نے عشق کا فریب دیا جسم کو جسم کی ناتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو درمیان لگ لاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چیختا ہوں بدن کی عسرت ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت جو تعمیر ہونے والی تھی لگ گئی آگ ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی ک سے طرح بسر ہوں گی دل نہیں لگ رہا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حاصل کن ہے یہ جہان خراب یہی ممکن تھا اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنایا خدا نے آدم کو اپنی صورت پہ ایسی صورت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں آدمی نے غور کیا چھپکلی کی لطیف صنعت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے خدا جو کہی نہیں موجود کیا لکھا ہے ہماری قسمت ہے وہ ہے وہ

Jaun Elia

32 likes

اسے ا سے سمے ا سے محفل ہے وہ ہے وہ ہونا چاہیے تھا خیر محبت ہے وہ ہے وہ انا کو دل سے کھونا چاہیے تھا خیر بچھڑتے سمے ا سے کی آنکھ ہے وہ ہے وہ کچھ بھی نہیں دیکھا اسے دو پل تو پلکوں کو بھیگو لگ چاہیے تھا خیر مجھے مصروف لمحوں نے کہی فرصت کی سچائی اسے ب سے ایک اچھا سا کھلونا چاہیے تھا خیر مری قصوں ہے وہ ہے وہ سن کر نام ا سے کا لوگ ہنستے تھے اسے ا سے بات پر تھوڑا تو رونا چاہیے تھا خیر مری دل کی تسلی کے لیے تصویر بھیجی ہے تمہیں ا سے سمے مری پا سے ہونا چاہیے تھا خیر

Sapna Moolchandani

15 likes

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو پھروں مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے ک سے کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا جاناں نے کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہے جاناں بھی رہ جاؤگے حیران ذرا دیکھ تو لو جاناں یہ کہتے ہوں کہ ہے وہ ہے وہ غیر ہوں پھروں بھی شاید نکل آئی کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ ک ہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو

Javed Akhtar

33 likes

یہ سن کر ہر کوئی حیران ہے اب تو مری جاں کسی کی جان ہے اب ملا کر خاک ہے وہ ہے وہ ارمان ہمارے حقیقت پوچھے ہے کوئی ارمان ہے اب تری کندھے کی پہلے شال تھی جو ہمارے گھر کا دستر خوان ہے اب سبھی سے بچھڑنا رشتہ ہی رکھو محبت ہے وہ ہے وہ بڑا نقصان ہے اب نہیں پہچانتا اب کوئی مجھ کو یہی مری نئی پہچان ہے اب حقیقت جھوٹا تھا میرا محبوب پہلے جو اک اعلیٰ سیاست دان ہے اب اسے کن کہنے کی لت پڑ گئی ہے اسے لگتا ہے حقیقت بھگوان ہے اب چلو جاؤ ہمارا ہاتھ چھوڑو تمہارا راستہ آسان ہے اب

Varun Anand

10 likes

More from Munawwar Rana

مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے

Munawwar Rana

5 likes

چھاؤں مل جائے تو کم دام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے اب تھکن تھوڑے سے آرام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے آپ کیا مجھ کو نوازیںگے آسام سلطنت تک مری انعام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے شعر جیسا بھی ہوں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پڑھ سکتے ہوں چائے جیسی بھی ہوں کوچہ بد نام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے حقیقت سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا رکھ سجدہ گزاری ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے

Munawwar Rana

5 likes

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

دنیا تری رونق سے میں اب اوب رہا ہوں تو چاند مجھے کہتی تھی میں ڈوب رہا ہوں اب کوئی شناسا بھی دکھائی نہیں دیتا برسوں میں اسی شہر کا محبوب رہا ہوں میں خواب نہیں آپ کی آنکھوں کی طرح تھا میں آپ کا لہجہ نہیں اسلوب رہا ہوں رسوائی مری نام سے بادہ آشامی رہی ہے میں خود کہاں رسوائی سے بادہ آشامی رہا ہوں سچائی تو یہ ہے کہ تری فسوں گروں میں اک وہ بھی زمانہ تھا کہ میں خوب رہا ہوں اس شہر کے پتھر بھی گواہی مری دیں گے صحرا بھی بتا دےگا کہ مجبوب رہا ہوں دنیا مجھے ساحل سے کھڑی دیکھ رہی ہے میں ایک جزیرے کی طرح ڈوب رہا ہوں شہرت مجھے ملتی ہے تو چپ چاپ کھڑی رہ رسوائی میں تجھ سے بھی تو بادہ آشامی رہا ہوں پھینک آئے تھے مجھ کو بھی مری بھائی کوئیں میں میں دل پامال میں بھی حضرت ایوب رہا ہوں

Munawwar Rana

1 likes

یہ درویشوں کی بستی ہے ی ہاں ایسا نہیں ہوگا لبا سے زندگی پھٹ جائےگا میلا نہیں ہوگا شیئر بازار ہے وہ ہے وہ قیمت اچھلتی گرتی رہتی ہے م گر یہ خون مفل سے ہے کبھی مہنگا نہیں ہوگا تری احسا سے کی اینٹیں لگی ہیں ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارا گھر تری گھر سے کبھی اونچا نہیں ہوگا ہماری دوستی کے بیچ خود غرضی بھی شامل ہے یہ بے موسم کا پھل ہے یہ بے حد میٹھا نہیں ہوگا پرانی شہر کے لوگوں ہے وہ ہے وہ اک رسم مروت ہے ہمارے پا سے آ جاؤ کبھی دھوکہ نہیں ہوگا یہ ایسی چوٹ ہے ج سے کو ہمیشہ دکھتے رہنا ہے یہ ایسا زخم ہے جو عمر بھر اچھا نہیں ہوگا

Munawwar Rana

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.