ghazalKuch Alfaaz

بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں کچھ لوگوں کو کنڈی تالے اچھے لگتے ہیں آم رویش سے ہٹکر چلنے والے زندہ باد الٹے ہاتھ سے لکھنے والے اچھے لگتے ہیں میرے پاؤں نہیں پڑتے اونچی دوکانوں پر مجھ کو ریڈی پٹری والے اچھے لگتے ہیں

Related Ghazal

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

More from Shakeel Jamali

کوئی بہانا کوئی کہانی نہیں چلےگی محبتوں ہے وہ ہے وہ غلط بیانی نہیں چلےگی اندھیرا پر وفا کا تمغہ نہیں سجےگا خراب کپڑے پہ کامدانی نہیں چلےگی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دنیا خراب سمجھے یہ ا سے کی مرضی م گر ثبوتوں سے چھیڑخانی نہیں چلےگی بڑوں کے عاشق شیدائی پہ بچے لگ چل سکوگے پرانی پٹری پہ راجدهانی نہیں چلےگی ا گر حقیقت اپنی زری کی ساڑی پہن کے نکلی تو یار لوگوں پہ شیروانی نہیں چلےگی حقیقت محفلیں جو بغیر اجرت کی خدمتیں ہیں تو کیا و ہاں بھی غزل پرانی نہیں چلےگی بے حد زیادہ بھی مطمئن مت دکھائی دینا بچھڑتے لمحوں ہے وہ ہے وہ شادوانی نہیں چلےگی

Shakeel Jamali

10 likes

الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں سب پانی ہے وہ ہے وہ کانٹا ڈالے بیٹھے ہیں اک بیمار وصیت کرنے والا ہے رشتے کم عقل جیبھ نکالے بیٹھے ہیں ابھی لگ جانے کتنا ہنسنا رونا ہے ابھی تو ہم سے پہلے والے بیٹھے ہیں صاحب زادہ پچھلی رات سے غائب ہے گھر کے اندر رشتے والے بیٹھے ہیں اندر ڈوری ٹوٹ رہی ہے سانسوں کی باہر بیمہ کرنے والے بیٹھے ہیں

Shakeel Jamali

9 likes

لوگ کہتے ہیں کہ ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ سر جاتے ہیں عشق ہے وہ ہے وہ اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا م گر آج اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں پاؤں ہے وہ ہے وہ اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں کیا جنوں خیز مسافت تھی تری کوچے کی اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں

Shakeel Jamali

5 likes

وفاداروں پہ آفت آ رہی ہے میاں لے لو جو قیمت آ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے اتنے نازکی کر چکا ہوں مجھے ا سے بار غیرت آ رہی ہے لگ جانے مجھ ہے وہ ہے وہ کیا دیکھا ہے ا سے نے مجھے ا سے پر محبت آ رہی ہے بدلتا جا رہا ہے جھوٹ سچ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی ہے وہ ہے وہ اپناپن آ رہی ہے میرا جھگڑا زمانے سے نہیں ہے مری آڑے محبت آ رہی ہے ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ حقیقت دیکھو ایک عورت آ رہی ہے مجھے ا سے کی اداسی نے بتایا بچھڑ جانے کی ساعت آ رہی ہے بڑوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوں نصیحت پر نصیحت آ رہی ہے

Shakeel Jamali

7 likes

دل ا سے کی محبت ہے وہ ہے وہ پریشان تو ہوگا اب آگ سے کھیلوگے تو نقصان تو ہوگا وعدے پہ لگ آوگے تو تفتیش تو ہوں گی قانون کو توڑوگے تو چالان تو ہوگا ہم نے تو اسے ایک انگوٹھی بھی نہیں دی حقیقت تاج محل دیکھ کے حیران تو ہوگا

Shakeel Jamali

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shakeel Jamali.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shakeel Jamali's ghazal.