ghazalKuch Alfaaz

الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں سب پانی ہے وہ ہے وہ کانٹا ڈالے بیٹھے ہیں اک بیمار وصیت کرنے والا ہے رشتے کم عقل جیبھ نکالے بیٹھے ہیں ابھی لگ جانے کتنا ہنسنا رونا ہے ابھی تو ہم سے پہلے والے بیٹھے ہیں صاحب زادہ پچھلی رات سے غائب ہے گھر کے اندر رشتے والے بیٹھے ہیں اندر ڈوری ٹوٹ رہی ہے سانسوں کی باہر بیمہ کرنے والے بیٹھے ہیں

Related Ghazal

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

More from Shakeel Jamali

کوئی بہانا کوئی کہانی نہیں چلےگی محبتوں ہے وہ ہے وہ غلط بیانی نہیں چلےگی اندھیرا پر وفا کا تمغہ نہیں سجےگا خراب کپڑے پہ کامدانی نہیں چلےگی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دنیا خراب سمجھے یہ ا سے کی مرضی م گر ثبوتوں سے چھیڑخانی نہیں چلےگی بڑوں کے عاشق شیدائی پہ بچے لگ چل سکوگے پرانی پٹری پہ راجدهانی نہیں چلےگی ا گر حقیقت اپنی زری کی ساڑی پہن کے نکلی تو یار لوگوں پہ شیروانی نہیں چلےگی حقیقت محفلیں جو بغیر اجرت کی خدمتیں ہیں تو کیا و ہاں بھی غزل پرانی نہیں چلےگی بے حد زیادہ بھی مطمئن مت دکھائی دینا بچھڑتے لمحوں ہے وہ ہے وہ شادوانی نہیں چلےگی

Shakeel Jamali

10 likes

لوگ کہتے ہیں کہ ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ سر جاتے ہیں عشق ہے وہ ہے وہ اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا م گر آج اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں پاؤں ہے وہ ہے وہ اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں کیا جنوں خیز مسافت تھی تری کوچے کی اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں

Shakeel Jamali

5 likes

دل ا سے کی محبت ہے وہ ہے وہ پریشان تو ہوگا اب آگ سے کھیلوگے تو نقصان تو ہوگا وعدے پہ لگ آوگے تو تفتیش تو ہوں گی قانون کو توڑوگے تو چالان تو ہوگا ہم نے تو اسے ایک انگوٹھی بھی نہیں دی حقیقت تاج محل دیکھ کے حیران تو ہوگا

Shakeel Jamali

11 likes

خوشی پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے اب مری پا سے خزا لگ ہے لٹانے کے لیے ایسی دفع لگ لگا ج سے ہے وہ ہے وہ ضمانت مل جائے مری کردار کو چن اپنے نشانے کے لیے کن زمینوں پہ اتاروگے اب امداد کا قہر کون سا شہر اجاڑوگے بسانے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے ہوں گئی ہے مری اجڑی ہوئی دنیا آباد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ بتانے کے لیے نفرتیں بیچنے والوں کی بھی مجبوری ہے مال تو چاہیے دکان چلانے کے لیے جی تو کہتا ہے کہ بستر سے لگ اتروں کئی روز گھر ہے وہ ہے وہ سامان تو ہوں بیٹھ کے خانے کے لیے

Shakeel Jamali

3 likes

سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے پرندہ آشیا لگ چاہتا ہے کوئی سکول کی گھنٹی بجا دے یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے اسے رشتے تھما دیتی ہے دنیا جو دو پیسے کمانا چاہتا ہے ی ہاں سانسوں کے لالے پڑ رہے ہیں حقیقت پاگل زہر خا لگ چاہتا ہے جسے بھی ڈوبنا ہوں ڈوب جائے سمندر سوکھ جانا چاہتا ہے ہمارا حق دبا رکھا ہے ج سے نے سنا ہے حج کو جانا چاہتا ہے

Shakeel Jamali

19 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shakeel Jamali.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shakeel Jamali's ghazal.