خوشی پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے اب مری پا سے خزا لگ ہے لٹانے کے لیے ایسی دفع لگ لگا ج سے ہے وہ ہے وہ ضمانت مل جائے مری کردار کو چن اپنے نشانے کے لیے کن زمینوں پہ اتاروگے اب امداد کا قہر کون سا شہر اجاڑوگے بسانے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے ہوں گئی ہے مری اجڑی ہوئی دنیا آباد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ بتانے کے لیے نفرتیں بیچنے والوں کی بھی مجبوری ہے مال تو چاہیے دکان چلانے کے لیے جی تو کہتا ہے کہ بستر سے لگ اتروں کئی روز گھر ہے وہ ہے وہ سامان تو ہوں بیٹھ کے خانے کے لیے
Related Ghazal
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
हर एक बात पे कहते हो तुम कि तू क्या है तुम्हीं कहो कि ये अंदाज़-ए-गुफ़्तुगू क्या है न शो'ले में ये करिश्मा न बर्क़ में ये अदा कोई बताओ कि वो शोख़-ए-तुंद-ख़ू क्या है ये रश्क है कि वो होता है हम-सुख़न तुम से वगर्ना ख़ौफ़-ए-बद-आमोज़ी-ए-अदू क्या है चिपक रहा है बदन पर लहू से पैराहन हमारे जैब को अब हाजत-ए-रफ़ू क्या है जला है जिस्म जहाँ दिल भी जल गया होगा कुरेदते हो जो अब राख जुस्तुजू क्या है रगों में दौड़ते फिरने के हम नहीं क़ाइल जब आँख ही से न टपका तो फिर लहू क्या है वो चीज़ जिस के लिए हम को हो बहिश्त अज़ीज़ सिवाए बादा-ए-गुलफ़ाम-ए-मुश्क-बू क्या है पि यूँँ शराब अगर ख़ुम भी देख लूँ दो-चार ये शीशा ओ क़दह ओ कूज़ा ओ सुबू क्या है रही न ताक़त-ए-गुफ़्तार और अगर हो भी तो किस उमीद पे कहिए कि आरज़ू क्या है हुआ है शह का मुसाहिब फिरे है इतराता वगर्ना शहर में 'ग़ालिब' की आबरू क्या है
Mirza Ghalib
32 likes
اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے
Khalil Ur Rehman Qamar
50 likes
More from Shakeel Jamali
کوئی بہانا کوئی کہانی نہیں چلےگی محبتوں ہے وہ ہے وہ غلط بیانی نہیں چلےگی اندھیرا پر وفا کا تمغہ نہیں سجےگا خراب کپڑے پہ کامدانی نہیں چلےگی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دنیا خراب سمجھے یہ ا سے کی مرضی م گر ثبوتوں سے چھیڑخانی نہیں چلےگی بڑوں کے عاشق شیدائی پہ بچے لگ چل سکوگے پرانی پٹری پہ راجدهانی نہیں چلےگی ا گر حقیقت اپنی زری کی ساڑی پہن کے نکلی تو یار لوگوں پہ شیروانی نہیں چلےگی حقیقت محفلیں جو بغیر اجرت کی خدمتیں ہیں تو کیا و ہاں بھی غزل پرانی نہیں چلےگی بے حد زیادہ بھی مطمئن مت دکھائی دینا بچھڑتے لمحوں ہے وہ ہے وہ شادوانی نہیں چلےگی
Shakeel Jamali
10 likes
لوگ کہتے ہیں کہ ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ سر جاتے ہیں عشق ہے وہ ہے وہ اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا م گر آج اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں پاؤں ہے وہ ہے وہ اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں کیا جنوں خیز مسافت تھی تری کوچے کی اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں
Shakeel Jamali
5 likes
وفاداروں پہ آفت آ رہی ہے میاں لے لو جو قیمت آ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے اتنے نازکی کر چکا ہوں مجھے ا سے بار غیرت آ رہی ہے لگ جانے مجھ ہے وہ ہے وہ کیا دیکھا ہے ا سے نے مجھے ا سے پر محبت آ رہی ہے بدلتا جا رہا ہے جھوٹ سچ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی ہے وہ ہے وہ اپناپن آ رہی ہے میرا جھگڑا زمانے سے نہیں ہے مری آڑے محبت آ رہی ہے ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ حقیقت دیکھو ایک عورت آ رہی ہے مجھے ا سے کی اداسی نے بتایا بچھڑ جانے کی ساعت آ رہی ہے بڑوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوں نصیحت پر نصیحت آ رہی ہے
Shakeel Jamali
7 likes
الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں سب پانی ہے وہ ہے وہ کانٹا ڈالے بیٹھے ہیں اک بیمار وصیت کرنے والا ہے رشتے کم عقل جیبھ نکالے بیٹھے ہیں ابھی لگ جانے کتنا ہنسنا رونا ہے ابھی تو ہم سے پہلے والے بیٹھے ہیں صاحب زادہ پچھلی رات سے غائب ہے گھر کے اندر رشتے والے بیٹھے ہیں اندر ڈوری ٹوٹ رہی ہے سانسوں کی باہر بیمہ کرنے والے بیٹھے ہیں
Shakeel Jamali
9 likes
بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں کچھ لوگوں کو کنڈی تالے اچھے لگتے ہیں آم رویش سے ہٹکر چلنے والے زندہ باد الٹے ہاتھ سے لکھنے والے اچھے لگتے ہیں میرے پاؤں نہیں پڑتے اونچی دوکانوں پر مجھ کو ریڈی پٹری والے اچھے لگتے ہیں
Shakeel Jamali
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeel Jamali.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeel Jamali's ghazal.







