سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے پرندہ آشیا لگ چاہتا ہے کوئی سکول کی گھنٹی بجا دے یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے اسے رشتے تھما دیتی ہے دنیا جو دو پیسے کمانا چاہتا ہے ی ہاں سانسوں کے لالے پڑ رہے ہیں حقیقت پاگل زہر خا لگ چاہتا ہے جسے بھی ڈوبنا ہوں ڈوب جائے سمندر سوکھ جانا چاہتا ہے ہمارا حق دبا رکھا ہے ج سے نے سنا ہے حج کو جانا چاہتا ہے
Related Ghazal
اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں
Varun Anand
63 likes
اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے
Khalil Ur Rehman Qamar
50 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Shakeel Jamali
لوگ کہتے ہیں کہ ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ سر جاتے ہیں عشق ہے وہ ہے وہ اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا م گر آج اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں پاؤں ہے وہ ہے وہ اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں کیا جنوں خیز مسافت تھی تری کوچے کی اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں
Shakeel Jamali
5 likes
خوشی پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے اب مری پا سے خزا لگ ہے لٹانے کے لیے ایسی دفع لگ لگا ج سے ہے وہ ہے وہ ضمانت مل جائے مری کردار کو چن اپنے نشانے کے لیے کن زمینوں پہ اتاروگے اب امداد کا قہر کون سا شہر اجاڑوگے بسانے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے ہوں گئی ہے مری اجڑی ہوئی دنیا آباد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ بتانے کے لیے نفرتیں بیچنے والوں کی بھی مجبوری ہے مال تو چاہیے دکان چلانے کے لیے جی تو کہتا ہے کہ بستر سے لگ اتروں کئی روز گھر ہے وہ ہے وہ سامان تو ہوں بیٹھ کے خانے کے لیے
Shakeel Jamali
3 likes
الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں سب پانی ہے وہ ہے وہ کانٹا ڈالے بیٹھے ہیں اک بیمار وصیت کرنے والا ہے رشتے کم عقل جیبھ نکالے بیٹھے ہیں ابھی لگ جانے کتنا ہنسنا رونا ہے ابھی تو ہم سے پہلے والے بیٹھے ہیں صاحب زادہ پچھلی رات سے غائب ہے گھر کے اندر رشتے والے بیٹھے ہیں اندر ڈوری ٹوٹ رہی ہے سانسوں کی باہر بیمہ کرنے والے بیٹھے ہیں
Shakeel Jamali
9 likes
کوئی بہانا کوئی کہانی نہیں چلےگی محبتوں ہے وہ ہے وہ غلط بیانی نہیں چلےگی اندھیرا پر وفا کا تمغہ نہیں سجےگا خراب کپڑے پہ کامدانی نہیں چلےگی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دنیا خراب سمجھے یہ ا سے کی مرضی م گر ثبوتوں سے چھیڑخانی نہیں چلےگی بڑوں کے عاشق شیدائی پہ بچے لگ چل سکوگے پرانی پٹری پہ راجدهانی نہیں چلےگی ا گر حقیقت اپنی زری کی ساڑی پہن کے نکلی تو یار لوگوں پہ شیروانی نہیں چلےگی حقیقت محفلیں جو بغیر اجرت کی خدمتیں ہیں تو کیا و ہاں بھی غزل پرانی نہیں چلےگی بے حد زیادہ بھی مطمئن مت دکھائی دینا بچھڑتے لمحوں ہے وہ ہے وہ شادوانی نہیں چلےگی
Shakeel Jamali
10 likes
بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں کچھ لوگوں کو کنڈی تالے اچھے لگتے ہیں آم رویش سے ہٹکر چلنے والے زندہ باد الٹے ہاتھ سے لکھنے والے اچھے لگتے ہیں میرے پاؤں نہیں پڑتے اونچی دوکانوں پر مجھ کو ریڈی پٹری والے اچھے لگتے ہیں
Shakeel Jamali
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeel Jamali.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeel Jamali's ghazal.







