بے قراری سی بے قراری ہے اب یہی زندگی ہماری ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کو پچھاڑ لگ ہے میاں مری سائے سے جنگ جاری ہے عشق کرنا بھی لازمی ہے م گر مجھ پہ گھر کی بھی ذمہ داری ہے پیار ہے مجھ کو زندگی سے بے حد اور تو زندگی سے پیاری ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود کو چھوڑتا ہی نہیں مری خود سے ا پیش سی یاری ہے شہر کا شہر سو گیا تو تابش اب مری جاگنے کی باری ہے
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
More from Tousief Tabish
ہے وہ ہے وہ ا سے سے بات کرنے جا چکا تھا م گر حقیقت بے وجہ آگے جا چکا تھا مجھے دریا نے پھروں اوپر بلایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی حد سے نیچے جا چکا تھا تری نقش قدم پر چلتے چلتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے کتنا آگے جا چکا تھا پڑھائی ختم کر کے جب ہے وہ ہے وہ لوٹا کوئی بے معانی اسے لے جا چکا تھا حقیقت چلنے کو تو رازی ہوں گئی تھی م گر جب ہے وہ ہے وہ اکیلے جا چکا تھا صدائیں دے رہا تھا حقیقت پلٹ کر م گر ہے وہ ہے وہ اپنے رستے جا چکا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو روک بھی سکتا تھا تابش کہ میرا سمے پیچھے جا چکا تھا
Tousief Tabish
6 likes
آئینے کے رو برو اک آئی لگ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات دن حیرت ہے وہ ہے وہ خود کو مبتلا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں والی بھی اک خوبی ہے ان ہے وہ ہے وہ ا سے لیے دشمنوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز و شب ہے وہ ہے وہ گھومتا ہوں سمے کی پر کار پر اپنے چاروں سمت کوئی دائرہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھٹکھٹاننے کی بھی زحمت کوئی آخر کیوں کرے ا سے لیے بھی گھر کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج کل خود سے بھی ہے رنجش کا کوئی سلسلہ آج کل خود سے بھی تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند یادیں ایک چہرہ ایک خواہش ایک خواب اپنے دل ہے وہ ہے وہ اور کیا ان کے سوا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند تصویریں کتابیں خوشبوئیں اور ایک پھول اپنی الماری ہے وہ ہے وہ تابش اور کیا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Tousief Tabish
6 likes
کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے سب نے تجھ کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ہے جاناں پر پیا سے کے معنی کھلنے والے نہیں جاناں نے پانی پی کر دریا دیکھا ہے جن ہاتھوں کو چومنے آ جاتے تھے لوگ آج انہی ہاتھوں ہے وہ ہے وہ کاسا دیکھا ہے روتی آنکھیں یہ سن کر خاموش ہوئیں ملبے ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ کو زندہ دیکھا ہے بابا بولا مری قسمت اچھی ہے ا سے نے شاید ہاتھ تمہارا دیکھا ہے لگتا ہے ہے وہ ہے وہ پیا سے سے مرنے والا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل شب خواب ہے وہ ہے وہ صحرا دیکھا ہے اندھی دنیا کو ہے وہ ہے وہ کیسے سمجھاؤں ان آنکھوں سے ہے وہ ہے وہ نے کیا کیا دیکھا ہے قی گرا رات کو بھاگنے والا ہے تابش ا سے نے خواب ہے وہ ہے وہ خفیہ رستہ دیکھا ہے
Tousief Tabish
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tousief Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Tousief Tabish's ghazal.







