ghazalKuch Alfaaz

ہے وہ ہے وہ ا سے سے بات کرنے جا چکا تھا م گر حقیقت بے وجہ آگے جا چکا تھا مجھے دریا نے پھروں اوپر بلایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی حد سے نیچے جا چکا تھا تری نقش قدم پر چلتے چلتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے کتنا آگے جا چکا تھا پڑھائی ختم کر کے جب ہے وہ ہے وہ لوٹا کوئی بے معانی اسے لے جا چکا تھا حقیقت چلنے کو تو رازی ہوں گئی تھی م گر جب ہے وہ ہے وہ اکیلے جا چکا تھا صدائیں دے رہا تھا حقیقت پلٹ کر م گر ہے وہ ہے وہ اپنے رستے جا چکا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو روک بھی سکتا تھا تابش کہ میرا سمے پیچھے جا چکا تھا

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Tousief Tabish

بے قراری سی بے قراری ہے اب یہی زندگی ہماری ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کو پچھاڑ لگ ہے میاں مری سائے سے جنگ جاری ہے عشق کرنا بھی لازمی ہے م گر مجھ پہ گھر کی بھی ذمہ داری ہے پیار ہے مجھ کو زندگی سے بے حد اور تو زندگی سے پیاری ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود کو چھوڑتا ہی نہیں مری خود سے ا پیش سی یاری ہے شہر کا شہر سو گیا تو تابش اب مری جاگنے کی باری ہے

Tousief Tabish

6 likes

آئینے کے رو برو اک آئی لگ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات دن حیرت ہے وہ ہے وہ خود کو مبتلا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں والی بھی اک خوبی ہے ان ہے وہ ہے وہ ا سے لیے دشمنوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز و شب ہے وہ ہے وہ گھومتا ہوں سمے کی پر کار پر اپنے چاروں سمت کوئی دائرہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھٹکھٹاننے کی بھی زحمت کوئی آخر کیوں کرے ا سے لیے بھی گھر کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج کل خود سے بھی ہے رنجش کا کوئی سلسلہ آج کل خود سے بھی تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند یادیں ایک چہرہ ایک خواہش ایک خواب اپنے دل ہے وہ ہے وہ اور کیا ان کے سوا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند تصویریں کتابیں خوشبوئیں اور ایک پھول اپنی الماری ہے وہ ہے وہ تابش اور کیا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Tousief Tabish

6 likes

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے سب نے تجھ کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ہے جاناں پر پیا سے کے معنی کھلنے والے نہیں جاناں نے پانی پی کر دریا دیکھا ہے جن ہاتھوں کو چومنے آ جاتے تھے لوگ آج انہی ہاتھوں ہے وہ ہے وہ کاسا دیکھا ہے روتی آنکھیں یہ سن کر خاموش ہوئیں ملبے ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ کو زندہ دیکھا ہے بابا بولا مری قسمت اچھی ہے ا سے نے شاید ہاتھ تمہارا دیکھا ہے لگتا ہے ہے وہ ہے وہ پیا سے سے مرنے والا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل شب خواب ہے وہ ہے وہ صحرا دیکھا ہے اندھی دنیا کو ہے وہ ہے وہ کیسے سمجھاؤں ان آنکھوں سے ہے وہ ہے وہ نے کیا کیا دیکھا ہے قی گرا رات کو بھاگنے والا ہے تابش ا سے نے خواب ہے وہ ہے وہ خفیہ رستہ دیکھا ہے

Tousief Tabish

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tousief Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tousief Tabish's ghazal.