ghazalKuch Alfaaz

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے سب نے تجھ کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ہے جاناں پر پیا سے کے معنی کھلنے والے نہیں جاناں نے پانی پی کر دریا دیکھا ہے جن ہاتھوں کو چومنے آ جاتے تھے لوگ آج انہی ہاتھوں ہے وہ ہے وہ کاسا دیکھا ہے روتی آنکھیں یہ سن کر خاموش ہوئیں ملبے ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ کو زندہ دیکھا ہے بابا بولا مری قسمت اچھی ہے ا سے نے شاید ہاتھ تمہارا دیکھا ہے لگتا ہے ہے وہ ہے وہ پیا سے سے مرنے والا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل شب خواب ہے وہ ہے وہ صحرا دیکھا ہے اندھی دنیا کو ہے وہ ہے وہ کیسے سمجھاؤں ان آنکھوں سے ہے وہ ہے وہ نے کیا کیا دیکھا ہے قی گرا رات کو بھاگنے والا ہے تابش ا سے نے خواب ہے وہ ہے وہ خفیہ رستہ دیکھا ہے

Related Ghazal

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

More from Tousief Tabish

آئینے کے رو برو اک آئی لگ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات دن حیرت ہے وہ ہے وہ خود کو مبتلا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں والی بھی اک خوبی ہے ان ہے وہ ہے وہ ا سے لیے دشمنوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز و شب ہے وہ ہے وہ گھومتا ہوں سمے کی پر کار پر اپنے چاروں سمت کوئی دائرہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھٹکھٹاننے کی بھی زحمت کوئی آخر کیوں کرے ا سے لیے بھی گھر کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج کل خود سے بھی ہے رنجش کا کوئی سلسلہ آج کل خود سے بھی تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند یادیں ایک چہرہ ایک خواہش ایک خواب اپنے دل ہے وہ ہے وہ اور کیا ان کے سوا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند تصویریں کتابیں خوشبوئیں اور ایک پھول اپنی الماری ہے وہ ہے وہ تابش اور کیا رکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Tousief Tabish

6 likes

بے قراری سی بے قراری ہے اب یہی زندگی ہماری ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کو پچھاڑ لگ ہے میاں مری سائے سے جنگ جاری ہے عشق کرنا بھی لازمی ہے م گر مجھ پہ گھر کی بھی ذمہ داری ہے پیار ہے مجھ کو زندگی سے بے حد اور تو زندگی سے پیاری ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود کو چھوڑتا ہی نہیں مری خود سے ا پیش سی یاری ہے شہر کا شہر سو گیا تو تابش اب مری جاگنے کی باری ہے

Tousief Tabish

6 likes

ہے وہ ہے وہ ا سے سے بات کرنے جا چکا تھا م گر حقیقت بے وجہ آگے جا چکا تھا مجھے دریا نے پھروں اوپر بلایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی حد سے نیچے جا چکا تھا تری نقش قدم پر چلتے چلتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے کتنا آگے جا چکا تھا پڑھائی ختم کر کے جب ہے وہ ہے وہ لوٹا کوئی بے معانی اسے لے جا چکا تھا حقیقت چلنے کو تو رازی ہوں گئی تھی م گر جب ہے وہ ہے وہ اکیلے جا چکا تھا صدائیں دے رہا تھا حقیقت پلٹ کر م گر ہے وہ ہے وہ اپنے رستے جا چکا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو روک بھی سکتا تھا تابش کہ میرا سمے پیچھے جا چکا تھا

Tousief Tabish

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tousief Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tousief Tabish's ghazal.